خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 432
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۴۳۲ ۲۸ دسمبر ۱۹۶۹ء۔اختتامی خطاب یں ان بہت کچھ ملا جانا پڑتا ہے اور دنیابھی ہیں کہ ان کو بہت کچھ ملا لیکن انہیں بھی ایک دن جانا پڑتا ہے اور دُنیا بھی دیکھتی ہے کہ انہیں کچھ نہیں ملا۔اس جلسہ کی غرض ہی یہ ہے کہ یہاں جو نیکی کی باتیں کی جاتی ہیں دوست انہیں غور سے سنیں۔اخوت کی جو فضا پیدا کی گئی ہے دوست اس سے فائدہ اُٹھا ئیں۔جو پاک ہوا ہمیں یہاں مل رہی ہے اس میں وہ سانس لیں اور کسی طرح ایسا ہو جائے کہ ہر احمدی کے دل سے دُنیا کی محبت نکل جائے سرد پڑ جائے اور اللہ تعالیٰ کی محبت کا ایک ایسا شعلہ، حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق کی کچھ ایسی آگ لگے کہ دُنیا سے انسان بالکل ہی منہ موڑ لے اور اللہ تعالیٰ کی طرف منہ کر کے اور اس میں ہو کر اور اسی کے لئے اور اس کی اطاعت میں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق میں اپنی زندگی کے دن گزارے۔قرآن کریم نے اللہ تعالیٰ کے حسن و احسان کے جلووں کو اس طرح نمایاں کر کے ہمارے سامنے رکھا ہے کہ سوچنے والی عقل اور سمجھنے والا دل اس سے متاثر ہوئے بغیر رہ ہی نہیں سکتا۔وہی باتیں ہیں جو اس جلسہ میں بیان کی جاتی ہیں یعنی قرآن کریم کی تفسیر بیان کی جاتی ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن واحسان کے جلووں پر روشنی ڈالی جاتی ہے۔دُنیا کی لالچ کے لئے نہ ہم نے آپ کو یہاں اکٹھا کیا نہ آپ یہاں آئے ، آپ خدا کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اور اس عظیم غلبہ اسلام کی مہم کی باتیں سننے اور اس کے لئے مزید جد و جہد کا عزم لے کر واپس جانے کی تمنا لے کر یہاں آئے ہیں۔دُنیا میں ایک انقلاب عظیم بیا ہو رہا ہے۔جو لوگ کنوئیں کے مینڈک ہوتے ہیں انہیں تو کنوئیں سے باہر نظر نہیں آتا لیکن وہ لوگ جو دنیا پر نگاہ ڈالتے ہیں انہیں سب کچھ نظر آ جاتا ہے۔وہ لوگ جو دُنیا کے پر دے پر ہماری سب سے زیادہ مخالفت کر رہے ہیں یعنی عیسائی انہیں بھی یہ احساس ہو گیا ہے کہ ” قرآن کریم حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی ہدایت میں اور تعلیم میں کچھ اس قسم کا حسن اور کشش اور جذب ہے کہ ان کے لئے اس کا مقابلہ کرنا مشکل ہو گیا ہے۔افریقہ کے دورے پر لوگوں کو میں کہتا رہا ہوں کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مساوات انسانی کا ایک عظیم نعرہ لگایا تھا وہی پیغام لے کر میں آپ کے پاس آیا ہوں۔میں انہیں