خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 401 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 401

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۴۰۱ ۲۸ دسمبر ۱۹۶۹ء۔اختتامی خطاب غیر معقول چیز ہے۔انسانی عقل میں یہ بات آہی نہیں سکتی۔جو سا تو میں آسمان پر ہے اسے پانچویں آسمان کی، چوتھے آسمان کی ، تیسرے آسمان کی، دوسرے آسمان کی اور پہلے آسمان کی رفعتیں حاصل ہیں۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کو یہ رفعتیں حاصل تھیں اور ادھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کو یہ رفعتیں حاصل ہیں اور اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ بھی امت محمدیہ کو یہ بتایا کہ مجھ میں اور اس میں کوئی فرق نہیں اور اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ بھی دنیا میں یہ منادی کی کہ مجھے عاجز فرزند میں اور میرے آقا اور باپ میں کوئی فرق نہیں ہے اور جس نے ہم میں کوئی فرق کیا اس نے مجھے نہیں پہچانا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک اور روحانی حرکت ہے جسے ہم تیسری حرکت بھی کہہ سکتے میں چوتھی حرکت بھی کہہ سکتے ہیں۔اگر ان حرکتوں کو جو وتر کے دائیں اور بائیں ہیں دوشمار کیا جائے تو یہ چوتھی حرکت آپ کی نیچے کی طرف ہے یعنی مخلوق کی طرف ہے۔یہاں آپ کی یہ عظیم شان ہمیں نظر آتی ہے کہ پہلے کے تمام انبیاء اور بعد کے تمام اولیاء نوع انسانی سے ہمدردی اور خیر خواہی رکھنے والے نہیں تھے بلکہ ایک قوم سے اور ایک زمانہ سے ان کا تعلق تھا۔ہوسکتا ہے کہ ان کی تعلیم میں تحریف و تبدل کے بعد شاید وہ بھیا نک شکل پیدا ہوئی ہو جو اس وقت ہے لیکن بہر حال اس میں یہاں تک کہہ دیا گیا تھا کہ جو جو تمہارے مذہب سے تعلق نہیں رکھتے۔تم ان کے اموال کو لوٹ لو ان کی عورتوں کو اور ان کی بیٹیوں کو بلا وجہ لونڈیاں بنالو اور پھر یہ حکم دیا گیا کہ اپنوں سے سود نہ لینا ہاں دوسری قوموں سے بے شک جتنا چاہو جس ریٹ پر چاہو اور جس شرح سے چاہوسود لیتے چلے جاؤ۔غرض جہاں تک دنیا اور اس کی بیماریوں اور جہاں تک نفوس انسانی اور ان کی آفات کا تعلق تھا کسی نے اس طرح ہمہ گیر ہمدردی اور غم خواری کا اظہار نہیں کیا جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا۔جو شخص اسفل السافلین کی گہرائیوں تک جا پہنچا دنیا کا کوئی نبی اسے اس گند سے چھڑانے کے لئے وہاں تک نہیں پہنچ سکا۔لیکن محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور شفقت بنی نوع انسان کے لئے جوش میں آئی اور آپ اس اسفل السافلین تک پہنچے اور آپ نے اس شخص کا ہاتھ پکڑا اور کہا تم مایوس کیوں ہوتے ہو۔إِنَّ اللهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا (الزمر : ۵۴) اللہ تعالی سارے گناہوں کو معاف کر دیتا ہے۔یہ بات کہ اللہ تعالی سارے گناہوں کو معاف کر دیتا ہے حقیقتا صرف اس کو کہی جاسکتی ہے جو