خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 402 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 402

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۴۰۲ ۲۸ دسمبر ۱۹۶۹ء۔اختتامی خطاب سارے گناہوں میں ملوث ہو جو شخص صرف ایک گناہ کا احساس رکھتا ہے اس کو آپ جا کر کہیں کہ مایوس نہ ہو اللہ تعالی سارے گناہوں کو معاف کر دیتا ہے تو وہ کہے گا مجھ سے یہ بات کرنے کی کیا ضرورت ہے۔میں یہ نہیں کہتا کہ یہ بات صحیح ہے یا غلط لیکن اگر کسی کو احساس ہی یہ ہو کہ میں نے صرف ایک غلطی کی ہے تو سارے گناہوں کو معاف کر دینے کا اس کی طبیعت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا بلکہ یونہی بات گذر جائے گی لیکن وہ شخص جو خود کو ہر قسم کے گند، ناپاکی اور پلیدی میں پاتا ہے اور اس کا احساس بیدار ہوتا ہے اور خدا تعالیٰ کی طرف حرکت کرنے کا ایک جذبہ اس کی طبیعت میں پیدا ہوتا ہے۔وہ اپنے دائیں طرف دیکھتا ہے بائیں طرف دیکھتا ہے سامنے دیکھتا ہے اور پیچھے دیکھتا ہے اور جہاں تک اس کی نگاہ جاتی ہے جہاں تک اس کا شعور پہنچ سکتا ہے وہ اپنے ہادی اور نجات دہندہ کو تلاش کرتا ہے۔وہ حضرت آدم علیہ السلام کو بھی دیکھتا ہے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بھی دیکھتا ہے وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بھی دیکھتا ہے۔وہ تمام ابنیاء کو دیکھتا ہے اور مایوس ہو کر وہاں بیٹھ جاتا ہے اور کہتا ہے کہ کچھ گناہوں سے نجات کے ذرائع تو ان انبیاء کے پاس ہیں مگر کچھ گنہ گار تو نہیں ہوں میں تو گناہ کی تہ تک پہنچ کر اسفل السافلین کے مقام تک پہنچا ہوں۔اس لئے یہ انبیاء مجھے نجات نہیں دے سکتے تب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شیریں آواز اس کے کان تک پہنچتی ہے اور آپ فرماتے ہیں:۔لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَّحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا (الزمر : ۵۴) اس کو یہ آواز سننے کا لطف آتا ہے۔آپ کی محبت اور شفقت اور ہمدردی اور غم خواری نے ہر دکھ کو ہر درد کو اور ہر گناہ کو دور کرنے کے سامان لئے ہوئے اور نجات کا یہ ہر طریقہ ہاتھ میں۔ہوئے ساری مخلوق اور ساری کائنات کو اپنے احاطہ میں لیا ہوا ہے۔آپ کی حرکت روحانیہ نچلی طرف ہے آپ نیچے گئے تو اسفل السافلین تک پہنچ گئے جہاں تک پہنچ عقلاً اس کی نہیں ہو سکتی تھی جو مثلاً مرکزی نقطہ سے تین انچ دائیں یا تین انچ بائیں طرف ہے کیونکہ وہ چکر کے قریب پہنچ جاتا ہے اور اس کا رستہ ختم ہو جاتا ہے اور گہرائیاں اور بدیاں اور بد اعمالیاں اور گناہ کی تاریکیاں ابھی اور آگے بڑھی ہوئی ہوتی ہیں۔وہاں تک کوئی پہنچ ہی نہیں سکتا کسی میں یہ طاقت ہی نہیں ہے یہ اہلیت ہی نہیں ہے لیکن محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام اس مرکزی نقطہ