خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 217 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 217

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) اور اپنے سوالوں کو آگے نہیں چلا سکتے تھے۔۲۱۷ ۱۲ جنوری ۱۹۶۸ء۔دوسرے روز کا خطار جیسا کہ میں نے پہلے بتایا تھا۔اپنی طرف سے انہوں نے یہ ایک ترکیب سوچی کہ جماعت احمدیہ سے ڈنمارک کے عوام کو متنفر کرنے کا یہ طریق ہے کہ ڈنمارک کے عوام پوپ سے نفرت کرتے ہیں اور ایک آدمی کی قیادت کو پسند نہیں کرتے۔ہم کسی طرح اس شخص کے منہ سے نکلوادیں کہ اس کی حیثیت پوپ کی حیثیت سے ملتی جلتی ہے۔تو وہ خود بخود اپنی عادت اور فطرت کے مطابق احمدیت سے نفرت کرنے لگ جائیں گے اور اس کی طرف متوجہ نہیں ہوں گے۔چنانچہ یہ مقصد سامنے رکھ کر انہوں نے سوالات تیار کئے۔مجھے پتہ نہیں تھا کہ ان کا کیا مقصد ہے۔ان میں سے ایک آتے ہی مجھے پوچھنے لگا کہ جماعت احمدیہ میں آپ کا مقام کیا ہے۔مجھے پتہ نہیں تھا کہ یہ مجھے کس طرف لے جانا چاہتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہی کا فضل تھا، کہ یہ سوال نہ بھی سامنے آیا اور نہ بھی اس کا جواب سوچا اسی وقت خدا نے کہا کہ انہیں جواب دو کہ تمہارا سوال غلط ہے اس لئے کہ میرے نزدیک جماعت احمدیہ اور میں ایک ہی وجود کا نام ہے اور جب وجود ہی ایک ہے تو اس وجود میں میرے مقام کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور وہ بڑا پریشان ہوا کہ یہ کیا جواب مل گیا ہے۔کہنے لگا ( انہوں نے پریسٹ persist کیا ) اصرار کیا کہ کسی طرح میرے منہ سے کوئی بات نکلوائیں۔چنانچہ دوسرا سوال یہ کیا کہ کیا یہ صحیح نہیں کہ جماعت احمدیہ پر یہ فرض ہے کہ وہ آپ کے ہر حکم کی اطاعت کرے۔میں نے کہا بالکل فرض نہیں جماعت احمدیہ پر یہ فرض ہے کہ وہ میرے معروف احکام کی اطاعت کرے ہر حکم کی اطاعت ان پر فرض نہیں ( آپ سے ان الفاظ میں بیعت لی جاتی ہے کہ جو نیک کام آپ بتائیں گے میں آپ کی اس میں کامل فرماں برداری کروں گا۔غرض میں نے کہا تم نے جو فقرہ کہا ہے وہ درست نہیں۔جو نیک کام میں بتا تا ہوں اس کی اطاعت ان پر فرض ہے پھر اس نے غلط نتیجہ نکالا اور تیسر اسوال یہ کر دیا کہ اس کا تو یہ مطلب ہوا کہ جو مقام پوپ کا ہے وہی آپ کا ہے۔اس سے مجھے پتہ لگا کہ ان کا مقصد کیا تھا۔میں نے کہا ہرگز نہیں میں پابند ہوں قرآن کریم کے احکام کا میں پابند ہوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ کا اور پوپ پر ایسی کوئی پابندی نہیں ہے۔اس لئے ہم دونوں کے مقام مختلف ہیں تب اس کو سمجھ آئی کہ یہاں دال گلتی نہیں۔میں نے کیا کرنا تھا اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے مجھے جواب بتادیا مجھے اس بات سے لطف آرہا تھا کہ میرے دماغ میں جواب آجاتا تھا اور میں جواب