خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 218 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 218

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ---- ۲۱۸ ۱۲ جنوری ۱۹۶۸ء۔دوسرے روز کا خطاب دے دیتا تھا یعنی ایسا تو نہیں تھا کہ حوالے نکالے ہوئے ہیں یا پہلے سے تیاری کی ہوئی ہے۔وہاں اس بات کا سوال ہی نہیں تھا۔غرض وہ سوال کرتے چلے گئے اور خاموش ہوتے گئے۔پھر اللہ تعالیٰ نے فضل کیا کہ ہمارے دورہ سے پہلے تین بیعت ہوئی تھیں دورہ کے بعد اس وقت تک تیرہ چودہ بیعتیں ہو چکی ہیں اور ان میں ایک کیتھولک بھی ہے جو اپنے مذہب میں بڑے متعصب ہوتے ہیں اور ان میں وہ ہماری نو جو ان مخلص طالبہ بھی ہے جو سویڈن کی رہنے والی ہے اور جس کے اندر اللہ تعالیٰ نے ایک حیرت انگیز تبدیلی پیدا کی۔ایک دن ہم کوپن ہیگن سے باہر گئے۔( میں وہاں کے احمدیوں کو اپنے ساتھ لے گیا تھا ) اس دن جب ہم واپس آئے تو مجھے پتہ لگا کہ مشن ہاؤس میں ہمارے امام کے گھر میں (ہم بھی وہاں ہی ٹھہرے ہوئے تھے ) یو نیورسٹی کی ایک نوجوان طالبہ دوسرے ملک ( سویڈن ) سے آئی ہوئی ہے اور دو چار گھنٹے سے ہمارا انتظار کر رہی ہے۔(اس کو یہ پتہ نہیں تھا کہ ہم وہاں نہیں باہر گئے ہوئے ہیں ) اور کہتی ہے کہ میں نے آج ہی واپس چلی جانا ہے اور جانا بھی مسلمان ہو کر ہے۔خیر جب ہم وہاں پہنچے تو میں نے اپنے دوستوں سے کہا کہ کیا تم میں سے کوئی اسے جانتا ہے اور کیا اسے کسی نے تبلیغ کی ہے۔انہوں نے کہا نہیں میں نے کہا پتہ تو کرو یہ کون ہے۔میں اس سے نہیں ملا چنانچہ ناروے کے رہنے والے ہمارے آنریری مبلغ اس کے پاس گئے اور ایک گھنٹہ تک اس سے باتیں کرتے رہے اور آخر اس کو یہ مشورہ دیا کہ چونکہ تم نے ابھی اسلام کے متعلق کچھ پڑھا نہیں اس لئے ابھی بیعت نہ کرو، اسلام میں داخل نہ ہو، یہاں سے کتابیں ساتھ لے جاؤ ان کو پڑھو پھر اسلام میں داخل ہونا۔وہ گھنٹہ بھر کی گفتگو سے تنگ آگئی اور کہنے لگی مجھے ان سے ملاؤ۔خیر میں نے اسے اندر بلالیا دوسرے دوست اور مبلغ بھی اس کے ساتھ آگئے مجھ سے آتے ہی وہ کہنے لگی کہ کیا اسلام میں اور احمدیت میں کوئی فرق ہے۔میں نے کہا ہر گز نہیں یہ دونوں ایک ہی چیز کے نام ہیں۔کہنے لگی پھر میری بیعت لے لو۔میں نے اسی وقت بیعت فارم منگوایا اور اس کی بیعت لی اور اس کا نام قانتہ رکھا۔اس کے بعد وہ چند کتابیں لے کر چلی گئی۔ابھی چند دن ہوئے امام کمال یوسف کا خط آیا کہ وہ قانتہ جس نے آپ کے سفر کے دوران بیعت کی تھی وہ کرسمس کی چھٹیوں میں گھر نہیں گئی بلکہ وہ دوسرے ملک میں ہمارے مشن ہاؤس میں آگئی ہے اور روزے پورے رکھ رہی ہے اور سارا وقت دعا میں منہمک رہتی ہے۔اس کو اس حد تک انہاک ہے کہ ہمارے ایک پاکستانی ڈاکٹر نے ایک دن سارے احمدیوں کی