خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 216
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۲۱۶ ۱۲/جنوری ۱۹۶۸ء۔دوسرے روز کا خطاب اس سے زیادہ اور کوئی حماقت نہیں ہو سکتی پس ہمیں آپس میں سر جوڑ کر تبادلہ خیالات کرنا چاہئے اور امن کی فضا میں معلوم کرنا چاہئے اور ثابت کرنا چاہئے کہ عیسائیت سچا مذ ہب ہے یا اسلام۔اور اس کے لئے میں بانی سلسلہ احمدیہ کے یہ دو دعوت ہائے مقابلہ تمہارے ہاتھ میں رکھتا ہوں اور میں ان کے نمائندہ اور خلیفہ ہونے کی حیثیت میں تمہارے ساتھ مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہوں۔ایک یہ کہ سورۃ فاتحہ کے مضامین کے ساتھ اپنی تمام الہامی کتابوں کا مقابلہ کر کے دیکھ لو کہ اپنے مضامین روحانی کے لحاظ سے کون بلند اور اعلیٰ اور ارفع ہے۔ایک تفصیل ہے وہ تفصیلی چیلنج میں نے ان کو دیا۔اور دوسرے یہ کہ ہر روز ہر صبح جب تم اٹھتے ہو کوئی نہ کوئی بیہودہ اعتراض اسلام پر کر دیتے ہو۔اگر ہم نے فیصلہ کرنا ہو تو مشکل پیش آئے گی۔کیونکہ تم اتنی کثرت سے اعتراض کرتے ہو کہ ایک زندگی میں ان کا جواب ہی نہیں دیا جا سکتا کئی زندگیاں ہوں تب جواب ممکن ہے۔پھر فیصلہ کیسے ہو گا کس کی زندگی میں ہوگا۔ایک آسان طریق میں تمہیں بتا تا ہوں تمہارے نزدیک جو سب سے اہم دو یا تین اعتراض اسلام پر ہوں کہ باقی اعتراضوں کے مقابلہ میں ایسے ہوں کہ ان کی وہ حیثیت ہو جو ایک پہاڑ کی ہوتی ہے ایک ذرہ کے مقابلہ میں تم وہ میرے سامنے پیش کرو اور اگر میں ان اعتراضات کو غلط ثابت کر دوں اور ان جگہوں سے جن پر تم نے اعتراض کیا ہے روحانی مضامین نکال کے پیش کر دوں اور اس کے مقابلہ میں وہ تعلیم جوتم پیش کر رہے ہو اس کا نقص ثابت کر دوں تو باقی اعتراضات ختم ہو جائیں گے۔جن اعتراضوں کو خود تمہارے نزدیک اتنی اہمیت حاصل ہے وہ ٹوٹ جائیں گے اور اس طرح کوئی اعتراض باقی نہیں رہے گا۔ان پادریوں اور مستشرقین میں سے ایک بولنے لگا تو میں نے کہا ابھی نہیں تم مجھ سے ملنے سے قبل کئی گھنٹے اور کئی دن آپس میں ملتے رہے ہو۔تم نے بڑے مشورے کرنے کے بعد وہ سوالات تیار کئے ہیں جو مجھ پر کرنے تھے۔تم پورے تیار ہو کر آئے ہو مجھے ان کے لیڈر نے بتایا کہ ہم نے کئی دن میٹنگیں کیں ، کئی گھنٹے سر جوڑا اور فیصلہ کیا کہ ہم آپ سے یہ سوالات کریں گے۔اس نے ایک کاپی کھول کر دکھائی۔وہ سوالوں سے بھری ہوئی تھی۔گویا جہاں تک سوالات کی بات ہے وہ روشنی میں تھے لیکن میں اندھیرے میں تھا مجھے کچھ پتہ نہیں تھا۔تب میرا وہ خدا جس پر ایک انسان کو کامل تو کل کرنا چاہئے میری مد کو آیا اور اس نے ایسے جواب مجھے سکھائے کہ وہ ساکت ہو جاتے تھے