خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 215
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۲۱۵ ۱۲/جنوری ۱۹۶۸ء۔دوسرے روز کا خطار بالکل بریکار ہیں۔اگر ایک شخص میں کوئی حقیقی تبدیلی آسکتی ہے تو وہ صرف دل ہی سے پیدا ہوسکتی ہے۔سوئٹزر لینڈ کے دوسرے اخبار نے لکھا کہ میں نے انہیں بتایا کہ اسلام دنیا میں جنگ جاری کرنے کے لئے نہیں بلکہ جنگوں کو روکنے کے لئے آیا ہے۔اسلام کو طاقت کی ضرورت نہیں اس لئے کہ اسلام کو دو غیر مادی ہتھیا را ایسے اللہ تعالیٰ نے دیئے ہیں کہ ان کا مقابلہ مادی طاقت نہیں کر سکتی۔ایک دلائل کا ہتھیار اور ایک آسمانی نشانوں کا ہتھیار۔جماعت کے بانی کے ذریعہ دنیا نے ہزاروں نشان دیکھے ہیں اور ہزاروں نشانوں کی پیشگوئی کی گئی ہے جو ا بھی پورے نہیں ہوئے۔ہیمبرگ کے ایک اخبار نے لکھا کہ جب مجھ سے پوچھا گیا کہ آپ اسلام کو کیسے پھیلائیں گے تو میں نے جواب دیا۔جرمن قوم کے قلوب کو فتح کرنے سے اور یہ حقیقت ہے کہ دلوں کو تبھی فتح کیا جا سکتا ہے جب انہیں اسلام کی خوبیوں سے پوری طرح آگاہ کر دیا جائے۔“ زیورک کے ایک اخبار نے میری باتوں سے متاثر ہو کر لکھا کہ ہم دنیا کی بہتری کے خیال سے امید رکھتے ہیں کہ ایسی امن پسند قوتوں کی آواز جہاں بھی بلند ہو گی سنی جائے گی۔فرینکفرٹ میں میں نے ان سے جو باتیں کیں وہ یہ تھیں کہ صرف اور صرف اسلام ہی کا خدا زندہ خدا ہے اور صرف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے زندہ رسول ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فرزند جلیل حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام زندہ خدا کے مظہر اور زندہ نشان ہیں اور میں ان کا نمائندے اور جانشین کی حیثیت سے دعوت مقابلہ دیتا ہوں۔اگر کسی عیسائی کو بھی دعوی ہے کہ اس کا خدا زندہ خدا ہے تو وہ میرے ساتھ قبولیت دعا میں مقابلہ کرے اگر وہ جیت جائے گا تو ایک گراں قدر انعام حاصل کرے۔اس طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دو چیلنج میں نے ان بارہ پادریوں اور مستشرقین کی جماعت کو دیئے جو ڈنمارک میں مجھے ملنے کے لئے آئے تھے اور ڈیڑھ گھنٹے تک ان کی مجھ سے گفتگو ہوئی۔اس گفتگو کے بعد میں نے ان سے کہا کہ مذہب کا معاملہ دل سے تعلق رکھتا ہے اور مذہب کے معاملہ میں جو دل سے تعلق رکھتا ہے۔مادی طاقت کا استعمال اتنی بڑی حماقت ہے کہ