خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 214
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۲۱۴ ۱۲/جنوری ۱۹۶۸ء۔دوسرے روز کا خطا۔پھر ہیگ کے ایک اور کثیر الاشاعت اخبار نے یہ لکھا کہ میں نے مغربی ممالک کو یہ بتایا ہے کہ ”میرا ایمان ہے کہ اسلام ہی مغربی ممالک کے لئے مستقبل کا مذہب ہے اگر اہل مغرب نے اپنے خالق حقیقی کونہ پہچانا تو وہ تباہ ہو جائیں گے۔“ اس قسم کے بیسیوں حوالے ہیں اور میں نے بتایا ہے کہ ۱۳۶ اخباروں نے بڑے نمایاں طور پر ہماری باتوں کو شائع کیا ہے اور سرخیاں بھی نمایاں دیں۔بعض نے تو پورے صفحہ کی سرخی دے کر نوٹ دیئے اور تصویر میں بھی بڑی نمایاں دیں۔ایڈیٹوریل لکھے ( درجنوں کی تعداد میں ایڈیٹوریل لکھے گئے ) ڈنمارک جہاں مسجد کا افتتاح ہوا ہے وہاں سب سے زیادہ عیسائی گھبرائے ہیں جب کہ میں نے پہلے بتایا ہے کہ ایک پادری نے چرچ بلیٹن میں ہی لکھ دیا کہ تم بغیر جانتے ہوئے مسلمان ہو چکے ہو۔اصل میں تمہارے خیالات بدل گئے ہیں۔تمہارے خیالات عیسائیوں والے نہیں رہے۔ہمارے خلاف بھی جو لکھا جاتا ہے وہ بھی ہمارے حق میں ہوتا ہے۔ایک اخبار نے لکھا۔اس موجودہ وقت میں اللہ اور اس کے رسول کو یہاں پیر و حاصل کرنے میں بہت وقت اور یا مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔“ ایک اخبار کہتا ہے کہ لوگوں کے خیالات مسلمانوں والے ہو گئے ہیں اور دوسرا اخبار کہتا ہے کہ ان کو پیر نہیں ملیں گے۔اب آؤ سنو تیسرا کیا کہتا ہے۔تیسرا اخبار کہتا ہے کہ۔یہ امر محتاج بیان نہیں کہ ڈنمارک میں بڑی تیزی سے مسلمانوں کی ایک جماعت معرض وجود میں آچکی ہے اور جس رفتار سے مسجد کی تعمیر عمل میں آئی ہے وہ اس بات کی آئینہ دار ہے کہ ڈنمارک کی مسلم تحریک کے پیچھے پر عزم اور فعال دماغ کارفرما ہے۔“ آگے جا کر وہ لکھتا ہے کہ جو کچھ واقع ہو گیا ہے۔یعنی مسجد کی تعمیر اور وہاں سے اذان کا بلند ہونا اور تبلیغ ہونا اور لوگوں کا مسلمان ہوتے چلے جانا یہ واقعہ اس نوعیت کا ہے کہ د کلیسا اس موقف کا سہارا نہیں لے سکتا کہ گویا کچھ ہوا ہی نہیں“ پھر ایک اخبار نے لکھا ہے کہ میں نے مغربی ممالک کو بتایا کہ اگر کسی کو اسلام کے پھیلنے کے ضمن میں یہ فکر ہے کہ اس غرض کے لئے گولیاں چلیں گی اور تلوار استعمال ہوگی تو وہ غلط فہمی میں مبتلا ہے۔یہ سب ہتھیار اور اٹیم بم وغیرہ کسی شخص کے خیال کو بدلنے کیلئے