خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 101 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 101

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) 1+1 ۲۷ جنوری ۱۹۶۷ء۔دوسرے روز کا خطار بالمعروف میں اطاعت کا عہد جماعت کے اندر صرف خلیفہ وقت سے ہے اور جماعتی نظام میں جب تک کسی جماعت میں خلافت قائم رہے یہ فیصلہ کرنا کہ جماعتی کاموں میں کونسی بات اللہ تعالیٰ کے فرمان کے مطابق احسن ہے اور کونسی نہیں یہ صرف خلیفہ وقت کا کام ہے کسی اور کا ہے ہی نہیں۔اس نے بتانا ہے کہ موجودہ حالات میں مثلاً دوسروں کے ساتھ مذہبی تبادلہ خیال اس رنگ میں کرو۔ہزار طریقے ہیں جن سے ہم مذہبی تبادلہ خیال کرتے ہیں۔کس موقع پر ، کس وقت پر، کس مقام پر، کس ملک میں ایک طریقہ احسن ہوتا ہے تو دوسرے موقع پر دوسرے وقت میں، دوسرے مقام پر یا دوسرے ملک میں دوسرا طریقہ احسن ہوتا ہے۔ایک یہ فیصلہ کرنا کہ کونسے مقام یا کون سے ملک میں کون سا طریق احسن ہے خلیفہ وقت کا کام ہے جب خلیفہ وقت حالات دیکھ کر فیصلہ کرتا ہے اور جماعت سے کہتا ہے۔اتَّبِعُوا أَحْسَنَ مَا أُنْزِلَ اِلَيْكُمُ۔یہ چیز اس وقت کے لحاظ سے اور ان حالات میں احسن ہے تم اس کی اتباع کرو۔آپ کے کانوں تک اس کی آواز نہیں پہنچتی۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ ساری جماعتیں (جماعت سے مراد مثلاً گجرات یا جہلم کی جماعت ہے ) بوجہ اس کے ان تک خلیفہ وقت کی آواز نہیں پہنچتی وہ کام نہیں کر سکتیں۔تو الفضل اس شخص کی بات آپ کے کان تک پہنچاتا ہے جس کے ذمہ اللہ تعالیٰ نے یہ بات لگائی ہے کہ جماعت کے متعلق یہ فیصلہ کرے کہ اسے اس وقت فلاں کام کرنے چاہئیں لیکن اگر آپ اپنے کانوں میں الفضل نہ منگوا کر یا اُسے نہ سن کر انگلیاں ڈال لیں تو پھر کام کیسے چلے گا۔ہر جماعت میں کم از کم ایک پر چہ الفضل کا جانا چاہیئے۔لیں تو کم۔اور اور اور دو ہو جانی اور اس کی ذمہ داری امراء اضلاع اور ضلع کے مربیان پر ہے۔اور اس کی تعمیل دو مہینے کے اندر ہو جانی چاہیئے۔ورنہ بعض دفعہ تو میں یہ سوچتا ہوں کہ ایسے مربیوں کو جو ان باتوں کی طرف متوجہ نہیں ہوتے کام سے فارغ کر دیا جائے۔اگر ان لوگوں نے خلیفہ وقت کی آواز جماعت کے ہر فرد کے کان تک نہیں پہنچانی تو اور کون پہنچائے گا اس آواز کو اور اگر وہ آواز جماعت کے کانوں تک نہیں پہنچے گی تو جماعت بحیثیت جماعت متحد ہو کر غلبہ اسلام کے لئے وہ کوشش کیسے کرے گی جس کوشش کی طرف اُسے بلایا جارہا ہے۔پس الفضل کی اشاعت کی طرف جماعت کو خاص توجہ دینی چاہیئے۔زیادہ سے زیادہ لوگوں کو الفضل خریدنا چاہیئے اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کے کانوں تک وہ آواز پہنچنی چاہیئے جو مرکز کی طرف سے اٹھتی ہے اور خلیفہ وقت جوامر بالمعروف کا مرکزی نقطہ ہے اس کی طرف آپ کے