خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 100 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 100

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) حاصل کیا جائے۔۲۷ جنوری ۱۹۶۷ء۔دوسرے روز کا خطار سب سے زیادہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر گھر میں الفضل ، پہنچے اور ”الفضل“ سے ہر گھر فائدہ اٹھارہا ہو۔ابھی جماعت کے حالات ایسے ہیں کہ شاید ہر گھر میں الفضل، نہیں پہنچ سکتا لیکن جماعت کے حالات ایسے نہیں کہ ہر گھر اس سے فائدہ بھی نہ اٹھا سکے۔اگر ہر جماعت میں ”الفضل پہنچ جائے اور جو بڑی جماعت ہے اور اس کے آگے کئی حلقے ہیں۔اس کے ہر حلقہ میں الفضل پہنچ جائے اور الفضل کے مضامین وغیرہ دوستوں کو سنائے جائیں تو ساری جماعت اس سے فائدہ اٹھا سکتی ہے خصوصاً خلیفہ وقت کے خطبات اور مضامین اور درس اور ڈائریاں وغیرہ ضرور سنائی جائیں۔خصوصاً میں نے اس لئے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خلیفہ وقت کو امر بالمعروف کا مرکزی نقطہ بنایا ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ ہر مسلمان دوسرے کو نیکی کی باتیں بتاتا رہے وہ امر بالمعروف کرتا رہے اور نہی عن المنکر کرتا رہے بدیوں سے وہ روکتا رہے۔اب ہر آدمی جب دوسرے بھائی کو امر بالمعروف یانھی عن المنکر کرتا ہے تو جس شخص کو سمجھایا جا رہا ہوتا ہے اس کے سمجھانے والے کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں ہوتا کہ، وہ ضرور اس کی بات مانے گا۔سمجھانے والے کا کام ہے سمجھا دینا اور خاموش ہو جانا اور مخاطب کا کام ہے کہ وہ اپنے حالات کے مطابق ان باتوں پر عمل کرے اس کے سامنے دور ستے ہیں وہ ان دورستوں میں سے ایک رستہ اختیار کرے گا یا تو اُسے وہ بات سمجھ نہیں آئے گی اور وہ سمجھانے والے کو کہے گا میاں تم جاؤ اور اپنا کام کرو مجھے تم کیوں ستارہے ہو۔اور اگر اُسے بات سمجھ آجائے کہ ایسا کرنا ہر مسلمان کا فرض ہے تو وہ بڑے پیار سے جواب دے گا میاں میں آپ کا بہت ممنون ہوں کہ آپ نے میری توجہ اس طرف پھیری ہے لیکن اپنے دل میں وہ یہی سوچے گا کہ اپنے حالات کو میں بہتر جانتا ہوں۔قرآن کریم کا یہ حکم نہیں کہ میں ہر وہ کام کروں جسے کوئی دوسرا شخص نیکی سمجھتا ہے۔قرآن کریم کا تو یہ حکم ہے کہ جو ہدایت تمہاری طرف نازل کی گئی ہے اس میں سے جسے تم احسن سمجھو اس کی پیروی کرو اتَّبِعُوا اَحْسَن مَا أُنْزِلَ إِلَيْكُمُ (الزمر : ۵۶) تو افراد کے متعلق تو یہ قانون ہے لیکن جہاں تک جماعت کا تعلق ہے صرف خلیفہ وقت کی ذات ہی ہے کہ آپ میں سے ہر ایک نے اس کے ساتھ یہ عہد بیعت کیا ہے کہ جو نیک کام بھی آپ مجھے بتائیں گے میں اس میں آپ کی فرمانبرداری کروں گا۔یعنی امر