خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 642
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۶۴۲ ۲۷/ دسمبر ۱۹۷۳ء۔دوسرے روز کا خطاب اکتو بر۱۹۷۳ ء تک ( یہ تین ماہ قبل کی رپورٹ ہے ) کل مریض جو ان سترہ طبی مراکز میں علاج کے لئے آئے ان کی تعداد ۶۶۹۰۰۰ ہے۔۶۶۹۰۰۰ مریضوں کا اِن پسماندہ ممالک میں اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ہمارے احمدی ڈاکٹروں نے علاج کرنے کی توفیق پائی اور قریباً ۶۰۰۰۰ مریض ایسا تھا جس کا تمام علاج مفت ہوا۔نہ فیسیں لی گئیں نہ دوائی کے پیسے لئے گئے اور جو دے سکتے تھے ان میں سے بعض ایسے تھے جو کہتے کہ مثلاً فیس نہ لو ہم سے ہم دے نہیں سکتے دو پیسے دوائی کی قیمت لے لو۔وہ ان سے لی گئی اور جو امیر ہے وہ اپنا پیسہ دیتا ہے اور ہم بھی لیتے ہیں۔اس کے علاوہ اللہ کی بڑی رحمت اور برکت ہمیں نظر آتی ہے۔ایسے مریض جن پر آپریشن کی ضرورت تھی ان کی تعداد ۴۶۰۰ ہے۔۴۶۰۰ آپریشن جن میں سے بعض مریض ایسے تھے جن کے کیس نہایت اُلجھے ہوئے تھے۔ایسے مریض جن کے متعلق ملک کے ماہر ڈاکٹروں نے کہہ دیا تھا کہ لاعلاج ہیں اگر آپریشن کروانا ہی ہے تو ” خداوند یسوع مسیح کے نام سے یہاں نہ کروانا۔ان کو وہاں لے جاؤ جہاں عیسائیت زوروں پر ہے۔خدا تعالیٰ نے کہا شفا دینا خداوند یسوع مسیح کا کام نہیں یہ تو خدائے واحد و یگانہ قادر مطلق اور شافی و کافی کا کام ہے اور ہمارے ڈاکٹروں نے خدا تعالیٰ پر تو کل کرتے ہوئے اپریشن کئے اور اللہ تعالیٰ نے کامیاب کئے اور بالکل لاعلاج مریض دواؤں سے شفایاب ہو گئے۔خدا کی اتنی رحمت نازل ہوئی اور اتنا فائدہ پہنچانے کی اس چھوٹی سی جماعت دنیا کی دھتکاری ہوئی جماعت کو خدا نے توفیق دی کہ اتنی خدمت خدا تعالیٰ کی مخلوق کی وہاں کرے۔پہلے تو یہ سب کا پیسہ مانگتے تھے میں نے بتایا کہ ہمیں آدمی مل گئے ڈاکٹر بھی اور ٹیچر بھی۔پروفیسر بنانے کے لئے کیونکہ وہاں ہائر سیکنڈری سکول ہیں۔جیسا کہ میں بتا چکا ہوں میں نے کہا تھا کہ مجھے فکر ہی کوئی نہیں کہ پیسہ کہاں سے آئے گا۔جس کا کام ہے وہ خود ہی پیسے کا انتظام کر۔گا۔ہمیں تو اپنی فکر کرنی چاہئے کہ ہماری حقیر قربانی قبول ہو جائے۔اس مد میں اس وقت تک باوجود اس کے کہ خود پاکستان سے بعض رقموں کی اطلاع ہمیں نہیں ملی اور بیرونِ ملک سے چندہ بہت سارا ایسا ہے جس کی اطلاع ہمیں نہیں ملی اس کے باوجود نصرت جہاں ریزرو فنڈ میں ۵۰۶۴۶۲۸ روپے وصول ہو چکے ہیں۔مجھے کم سے کم جو کہا گیا تھا وہ ۲۵لاکھ روپیہ تھا اب خدا کی شان دیکھو۔۲۵ لاکھ روپے مجھے خرچ کرنے کو کہا گیا تھا خدا تعالیٰ نے یہ مطالبہ کروایا تھا جماعت