خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 643 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 643

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۶۴۳ ۲۷/ دسمبر ۱۹۷۳ء۔دوسرے روز کا خطا۔سے کہ کم از کم پچیس لاکھ روپیدان پسماندہ علاقوں کی خدمت کے لئے دو اور آپ کو یہ توفیق دی اپنی شان دکھانے کے لئے کہ ایک لاکھ کی بجائے دولاکھ پاؤنڈ سے زیادہ آپ نے دے دیئے پھر خدا نے اپنے عمل سے یہ کہا کہ میرے یہ عاجز بندے جو میرے خزانوں سے ایک چھوٹا سا حصہ وصول کرتے ہیں اُنہوں نے میری راہ میں میری آواز پر لبیک کہتے ہوئے میری رضا کے حصول کے لئے دولاکھ پاؤنڈ اس آواز پر قربان کر دیئے۔میں نے (یعنی خدا تعالیٰ نے) قبولیت کے نشان کے طور پر ( یہ میرا اپنا ذوقی استدلال ہے) اپنے خزانوں سے آپ کے دیئے ہوئے ۵۰ لاکھ سے کچھ زائد روپے کے مقابل پر اس مد میں ساٹھ لاکھ سے زائد روپیہ اس مد میں دے دیا۔جو ہمارے طبی مراکز سے آمد ہوئی اور جو سکولوں کی فیسوں وغیرہ سے آمد ہوئی اس کی رقم قریباً ستر لاکھ روپیہ بنتی ہے۔آپ نے ۵۰ لاکھ خدا کے حضور پیش کیا۔اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت کے خزانوں سے قریباً ستر لاکھ کے خزانے دے دیئے یہ بتانے کے لئے کہ آپ کی قربانیاں قبول ہوئیں اور اس عرصہ میں جو بڑا تھوڑا عرصہ ہے ) ہم نے ان ممالک میں طبی مراکز اور سکول کھولنے پر اور وہاں قرآن کریم کی اشاعت پر اس وقت تک ۸۷۰۰۰۰۰ روپیہ خرچ کیا ہے ابھی عملاً تین سال بھی نہیں ہوئے قریباً اڑھائی پونے تین سال ہوئے ہیں۔۸۷ لاکھ روپے جماعت کے جو تمام کام میں ان کے علاوہ یہ ایک چھوٹا سا منصوبہ تھا اس پر ۷ ۸ لاکھ روپے ( بلکہ ۸۸ لاکھ سمجھنا چاہئے صرف کچھ ہزار کی کمی ہے ) خدا تعالیٰ نے انتظام کر دیا کہ ہم خرچ کریں اور اس کی رحمت سے اپنی جھولیوں کو بھر لیں اور آخر میں ایک بات جو رہ گئی ہے وہ میں کہنی چاہتا ہوں اور ۸۸ لاکھ روپیہ اس معمولی سی مد میں اُس جماعت کو خرچ کرنے کی توفیق عطا کی جو اس عرصہ میں (اگر تین سال کا عرصہ لیا جائے تو ) دیگر کاموں پر قریباً چار کروڑ روپیہ خرچ کر چکی ہے اور وہ جماعت جو ایک سال میں سال رواں مراد ہے ) ایک کروڑ ارسٹھ لاکھ روپیہ خدا کی راہ میں قربان کر رہی ہے اور ان کے علاوہ جو چندے ہیں ( اور کچھ اور قربانیاں ہیں جن کا کل مطالبہ کیا جائے گا ) یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے یہ اُسی کی رحمت ہے کیونکہ جس وقت جماعت کی ابتداء ہوئی اور تربیت کی ابتدا تھی اور لوگوں کا اس طرف رجحان نہیں تھا اور جماعت چھوٹی تھی۔اُس وقت یہ حال تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو