خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 641
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۶۴۱ ۲۷ دسمبر ۱۹۷۳ء۔دوسرے روز کا خطار دیتا ہے اور ہمارے دل اس کی حمد سے بھرے ہوئے ہیں اور ہم اُس کے احسان مند ہیں اور ممنون ہیں ہمارا کسی پر احسان نہیں ہے۔پھر وہاں ایک اور واقعہ ہوا۔وہاں پہلا ملک ہے جہاں نائیجیریا نے فیصلہ کیا کہ سکولوں کو قومیالیا جائے۔(Nationalize کر لیا جائے ) لیکن اُنہوں نے اپنے صوبوں کو کہا کہ اپنے حالات کے مطابق کام کرو۔ایک وہ صوبہ تھا جہاں ہم دو سکول کھول چکے تھے جہاں ہم ان سکولوں کی عمارتوں پر ابتدائی خرچ ( پورا تو نہیں کیونکہ ابھی میں نے بتایا ہے کہ کئی سال میں دو سکول مکمل ہوتے ہیں ) ابتدائی طور پر چند لاکھ روپیہ ہم خرچ کر چکے تھے۔انہوں نے کہا ہم سکولوں کو قومیا لیتے ہیں اور ہم جتنا خرچ ہوا ہے وہ خرچ کرنے والوں کو ( معاوضہ کے طور پر ) دیں گے۔مجھے اُنہوں نے لکھا میں نے کہا وہاں جو گورنر تھے عثمان فاروق صاحب بڑے اچھے آدمی ہیں۔میں نے اُن سے ۱۹۷۰ء میں وعدہ کیا تھا اُن سے جا کر کہو تمہاری خدمت کے لئے آئے تھے تمہاری خدمت میں ہم نے سکول تیار کر دیئے۔تم چاہتے ہو کہ انہیں قومیا لو بڑی خوشی سے ایسا کر لو۔یہ سکول تمہارے لئے بنے ہیں تم لے لو اور معاوضہ ہم نے کوئی نہیں لینا۔ہمارے اس رویہ سے وہ بڑے حیران ہوئے۔ان کا سارا ملک حیران ، اُن کے عوام حیران ، ان کی حکومت حیران ، ان کے اخبار حیران ، ان کا ریڈیو حیران ، ان کا ٹیلیویژن حیران۔سارے پر لیس میں یہ بات آگئی کہ وہ کہنے لگے عجیب لوگ ہیں یہ باہر سے آئے ہیں حکومت پیسہ دیتی ہے یہ لیتے نہیں ہیں۔ہم کیوں لیتے ہم تو خُدا کے مزدور ہیں اس کی مخلوق کی خدمت اُس دنیا میں جا کر کر رہے ہیں۔خیر عیسائی بڑا گھبرائے وہ ہم سے ناراض ہو گئے۔اُنہوں نے کہا عجیب ہو تم ! ہم نے تو بڑی بڑی فہرستیں بنائی تھیں پیسہ لینے کے لئے مگر تم نے ہمارا دروازہ بند کر دیا۔تم نے کہا کہ مفت لے لو اب ہمیں بھی سوچنا ہے۔مفت تو شاید نہ دیں لیکن چھوڑنا پڑے گا بہت کچھ۔خیر تمہاری اپنی نیتیں ہیں۔تمہارے ساتھ اللہ تعالیٰ کا سلوک اور ہے ہمارے ساتھ اور ہے ہم نے تو ہر دینی اور دنیوی حسنہ اُسی سے حاصل کرنی ہے کسی اور کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلا نے نہ آج تک پھیلائے ہیں نہ کبھی۔پھیلائیں گے اللہ کی توفیق سے۔ہمارے جو سترہ طبی مراکز وہاں کام کر رہے ہیں۔ان کے کوائف مختصراً یہ ہیں کہ