خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 613 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 613

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۶۱۳ ۲۶ / دسمبر ۱۹۷۳ء۔افتتاحی خطاب سامان پیدا کر کہ ہم گناہوں اور غفلتوں اور سستیوں اور کوتاہیوں سے ہمیشہ بچتے رہیں۔اگر کبھی ہم سے بشری کمزوری کے نتیجہ میں غفلت اور گناہ سرزد ہو جائیں تو اے ہمارے پیارے ربّ ! تُو ہمیں ہماری غفلتوں اور گناہوں کے بُرے نتائج سے بچا اور تو ہمیں اپنی راہ میں اس قسم کی اور اس قدر نیکیوں کی توفیق عطا فرما کہ گویا ہم نے کبھی گناہ کیا ہی نہیں کیونکہ نیکیاں گناہوں کو مٹا دیا کرتی ہیں۔اے ہمارے رب ! جب ہم نے اس منادی کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے تمام ادیان کو تیری طرف بلانے کی کوشش شروع کی تو مخالفین اسلام کو تو غصہ آنا ہی تھا کیونکہ اُن کو تو یہ نظر آنے لگا کہ اب پیار کے ساتھ ، دلائل کے ساتھ ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسیہ کے نتیجہ میں اور آپ کے رُوحانی فرزند پر نازل ہونے والے آسمانی نشانوں کے ذریعہ سارے ادیان مٹا دیئے جائیں گے اس رنگ میں کہ اُن کے ماننے والے حلقہ بگوش اسلام ہو جائیں گے وہ لوگ بھی جن کی چودھراہٹ جاتی تھی یا جن کی قیادت پر ہاتھ پڑتا تھا یا اس آواز کے نتیجہ میں جن کو یہ خطرہ پیدا ہو گیا تھا کہ شاید اس طرح اُن کی روزی اُن سے چھن جائے گی ( کیونکہ وہ رب العالمین خدا پر حقیقی ایمان نہیں لاتے تھے ) انہوں نے بھی اس آواز کو دبانے کے لئے بھر پور کوشش کی مشتی کہ ساری دنیا اکٹھی ہو گئی کہ یہ آواز بلند نہ ہو۔مشرق اور مغرب کی طاقتیں اور دُنیا کے امیر ترین ممالک اس آواز کو دبانے کے لئے صف آرا ہو گئے۔وہ لوگ جو صاحب اقتدار تھے اور ساری دنیا کو اپنے قبضہ میں سمجھتے تھے اور اپنے ملکوں سے باہر لوگوں کو اپنا غلام سمجھتے تھے اس اکیلی آواز کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔غرض دُنیا کی ساری دولتیں، سارے اقتدار، ساری طاقتیں سارے ہتھیاراور لوگوں کے ہر قسم کے منصوبے، اُن کے علم ، اُن کے فلسفے ، اُن کی سائنس اور ان کی ایجادات اس اکیلی آواز کو جو آج سے اتنی پچاسی سال پہلے دُنیا میں بلند ہوئی تھی اس کو دبانے کے لئے اکٹھی ہو گئیں مگر وہ اکیلی آواز آج لاکھوں انسانوں کی آواز بن کر ساری دُنیا کے گرد چکر لگارہی ہے۔الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَی ذَلِکَ۔اے ہمارے رب! ہم نے ان واقعات میں تیرے قادرا نہ تصرفات کو دیکھا اور ہم اس یقین پر قائم ہوئے کہ جو تجھ سے چمٹ جاتا ہے وہی سب کچھ پالیتا ہے اور جو تجھ سے دُور رہتا ہے اس