خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 614 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 614

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۶۱۴ ۲۶ / دسمبر ۱۹۷۳ء۔افتتاحی خطاب کے لئے ہلاکت ہے۔اے ہمارے رب! ہم تیرے حقیر اور عاجز بندے ہیں۔ہم تیرے کمزور اور بے کسی بندے ہیں۔ہم تیرے بے یار و مددگار بندے ہیں۔ہم تیرے بے زر اور بے مال بندے ہیں۔ہم تیرے قدموں کو پکڑتے ہوئے اور تیری آواز پر لبیک کہتے ہوئے دُنیا میں اسلام کو غالب کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔اے خدا ! تو ہماری اِن حقیر کوششوں کی کم مائیگی اور کمزوری کی طرف نہ دیکھ ، اُس جذ بہ کو دیکھ جو ہمارے دلوں میں سمندروں کی طرح موجزن ہے۔ہمیں ہر لمحہ یہ خیال تڑپا تا ہے کہ کسی طرح تیرے بندے جلد تیری گود میں واپس آ جائیں۔وہ ایک لمحہ بھی شیطان کی گود میں نہ رہیں۔اے خدا! تو ہماری ان کوششوں میں برکت ڈال اور آسمان سے فرشتوں کے نزول سے ہماری مدد فرما جسمانی لحاظ سے بھی صحت مند رکھ۔ہمارے اندر اپنی محبت کی وہ تپش پیدا کر جو اس گہری دُھند کو ، سردی کی اس شدید لہر کو اور ان آبی بخارات اور ان کے بُرے اثرات کو مٹا دیتی ہے۔تا کہ دُنیا بھی یہ سمجھ لے۔دُنیا بھی یہ جان لے اور دُنیا بھی یہ پہچان لے کہ ہمارا رب اور اُن کا رب جماعت احمدیہ کے ساتھ ہے اور اُس کی مدد اس کو حاصل ہے اور اُس کے فرشتے اس کی نصرت کے لئے آسمانوں سے نازل ہوتے ہیں اور دُنیا کو یہ بات بھی سمجھ میں آ جائے کہ آسمانوں پر جو فیصلہ ہو چکا ہے زمین کی کوئی طاقت اُسے ٹال نہیں سکتی۔پس ہماری دُعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہماری حقیر کوششوں کو قبول فرمائے۔اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ہماری کوششوں کو ، ہماری قر بانیوں کو اور اُس ایثار کو جو اس کے حضور جماعت احمد یہ اور اس کے افراد کی طرف سے خلوص نیت کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے قبول فرمائے اور دینی اور دنیوی برکات سے ہمارے گھروں کو بھر دے۔اور اے خدا!! جس طرح تو نے ہمارے دلوں میں اپنی محبت کی شمع روشن کی ہے اسی طرح ہماری آنے والی نسلوں کے دلوں میں بھی اپنی محبت کی ایسی تپش پیدا کر کہ وہ اُن کے دل سے ہر دوسری چیز کو جلا کر راکھ کر دے۔اللہ کے سوا ہماری اور ہماری نسلوں کی توجہ کو کوئی چیز اپنی طرف کھینچنے والی نہ ہو۔جب ہم تیری آواز پر لبیک کہتے ہوئے اپنے گھروں سے نکلیں تو اے ہمارے رب ! تو ہمارا بھی حافظ و ناصر ہو اور جن کو پیچھے ہم اپنے گھروں میں چھوڑ آئے ہیں اُن کی بھی حفاظت فرما۔ہم تیرے عاجز بندے ہیں تو اپنے فضل سے ہم سب کی حفاظت، خوشحالی اور بہتری کے سامان پیدا کر۔