خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 612
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۶۱۲ ۲۶ / دسمبر ۱۹۷۳ء۔افتتاحی خطاب بانی اسلام اور بانی اسلام کو بھیجنے والے خدا کا تم پر سلام ہو۔اے ہمارے رب ! ہم نے ایک ایسی آواز سنی جو نہایت شیریں اور پیاری ہے۔اور اسلام کی ہمدردی اور غمخواری سے لبریز ہے۔یہ وہ آواز ہے جو ہمیں کہتی ہے کہ میں خدا کی طرف سے ہوں اور تمہیں خدا کی طرف لے جانے کے لئے آئی ہوں۔یہ وہ آواز ہے جس نے ہمیں نور فر است عطا کیا جوصرف اسلام کے ذریعہ حاصل ہو سکتا ہے۔یہ وہ آواز ہے جس نے ہمارے دلوں میں تو حید حقیقی اور عظمت رسول (صلی اللہ علیہ وسلم ) کو قائم کیا۔یہ وہ پیاری آواز ہے جس نے ہمیں علی وجہ البصیرت یہ یقین دلایا اور ہمیں اس ایمان پر قائم کیا کہ قرآن کریم نہ صرف یہ کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک آخری شریعت ہے بلکہ ایک کامل اور مکمل ہدایت نامہ ہے۔انسان کی نجات کی سب را ہیں اسی سر چشمہ سے نکلتی ہیں خدا تعالیٰ تک پہنچانے والا ہر راستہ قرآن کریم کے نو رہی سے منور ہوکر خدا تعالیٰ کی طرف راہنمائی کرتا ہے ہم نے اس آواز کوسُنا ہم اس منادی پر ایمان لائے۔ہم نے اس حقیقت کو جانا اور اس صداقت کو پہچانا کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں پر یہ فیصلہ فرمایا ہے کہ اسلام کی آخری جنگ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عظیم روحانی فرزند کے ذریعہ جیتی جائے گی۔آخری فتح اسلام کو ہوگی۔تمام شیطانی قو تیں پسپا ہو جائیں گی۔اسلام کاسو رج تمام دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا اور ہر ملک میں حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈ ابلند ہوگا۔دوسرے سب جھنڈے سرنگوں ہو جا ئیں گے۔یہ جنگ شروع ہو چکی ہے۔اس جنگ کو جیتنے کے لئے ہمیں کہا گیا ہے کہ تم اپنی جانوں کو اور اپنے مالوں کو اور اپنی اولادوں کو غرض ہر اُس چیز کو جو تمہاری طرف منسوب ہوتی ہے اور تم اپنے آپ کو اُس کا مالک سمجھتے ہو اسے خدا کی راہ میں قربان کر دو تا کہ خدا کی توحید اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت بنی نوع انسان کے دل میں بیٹھ جائے۔اس آواز کوسُن کر اس پر لبیک کہتے ہوئے ہم ایک جھنڈے تلے جمع ہو گئے۔لیکن اے ہمارے رب! ہم کمزور ہیں۔ہماری فطرت میں بھی کمزوری ہے۔ہماری غفلتوں کے نتیجہ میں بھی ہم سے کمزوریاں اور گناہ سرزد ہو جاتے ہیں۔فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا۔اے ہمارے محبوب آقا ! ہمارے مالک و خالق خدا !! تو اپنے فضل سے اپنے فرشتوں کے ذریعہ ہمارے لئے ایسے