خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 607
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۶۰۷ ۲۸ / دسمبر ۱۹۷۲ء۔اختتامی خطاب کہ اسے صراط مستقیم دکھائی جائے۔اُس کو راہ راست پر لایا جائے اُس کو سچی باتیں بتاتی جائیں۔اگر احمدی کا یہ حق ہے تو اُن کا یہ فرض ہے کہ وہ یہ باتیں اسے بتائیں۔ہمارے گھروں پر آئیں۔ہمارے ساتھ بیٹھ کر چائے پئیں۔ہمارے ساتھ ملیں۔ہمیں پیار سے اپنی باتیں سنائیں جو بات ہمیں سمجھ میں نہیں آئے گی ہم ان سے پوچھیں گے کہ یہ مسئلہ ہمیں سمجھ نہیں آیا مثلاً وہ کوئی دلیل دیں گے۔حیات مسیح کی ہم کہیں گے دیکھو ہمیں یہ مسئلہ سمجھ نہیں آتا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم زندگی گزار نے کے بعد طبعی وفات پا کر زمین میں مدفون ہوں اور جو اُن سے کہیں چھوٹا تھا اور جو معراج میں کشف آ۔کوئی آسمان نیچے دکھایا گیا تھا۔اُسے آپ آسمان پر زندہ بٹھاتے ہیں اور وہ نبی اور وہ خاتم النبین اور وہ خاتم المرسلین جس نے اپنے ماننے والوں سے یہ کہا تھا ” اذا تواضع العبد رفعه الله الى السماء السابعة “ ( کنز العمال جلد ۲ ص ۲۵ مطبع دائرہ معارف حیدر آباد) کہ تم میں سے جو بھی تواضع اور منکسر المزاجی سے کام لے گا، تکبر نہیں کرے گا اور زمین کی طرف اس کا سر ہمیشہ جھکا رہے گا اس کا رب اُسے ساتویں آسمان تک لے جائے گا۔یعنی حضرت مسیح علیہ السلام سے بھی چند آسمان اوپر لے جائے گا۔پس جو بات ہمیں سمجھ نہ آئے وہ ہم اُن سے پوچھیں گے۔آخر ہمارے بھی اسی طرح تم پر حقوق ہیں جس طرح تمہارے حقوق ہم پر ہیں۔پس شور کرنا اور بلا وجہ اصرار کرنا درست نہیں ہے۔بہر حال اس وقت میں یہ کہہ رہا ہوں کہ ہم پر یہ اعتراض کر دیا گیا کہ مذہبی جماعت کہلانے کے باوجود یہاں کمیونزم کو غالب کرا دیا اور اُن کے حاکم بننے کے سامان پیدا کر دیئے مگر دنیا نے دیکھ لیا کہ یہ اعتراض غلط تھا۔ہم حکومت کو صحیح مشورہ دیتے ہیں۔دنیا کی دوستیوں کی طرح تو حکومت سے تعلق نہیں ہوتا لیکن ہم اُن کو بتاتے رہتے ہیں کہ قرآن کریم کی یہ تعلیم ہے۔میں نے بتایا تھا کہ ایک کتاب ”اسلام غرباء اور یتامیٰ کا محافظ جو قرآن کریم کی آیات کی تفسیر ہے وہ حکومت کے نمائندوں تک پہنچائی گئی ہے۔آپ بھی اپنے دوستوں کو دیں۔یہ ملک اور اس ملک کے حالات ہم سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ اپنی دعاؤں میں ایک بڑا حصہ اُن کا بھی رکھیں۔بہت دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اس ملک کی قسمت کو سنوارے اور ملک کے اندر جو نا سمجھ دوست ہیں اُن کو سمجھ عطا کرے اور جو سمجھدار ہیں اُن کی فراست کو اور بھی زیادہ تیزہ کر دے اور ہر فرد کو یہ توفیق دے کہ ہر دوسرے کی خدمت کے لئے انتہائی کوشش کرے۔اگر ہر شخص ہر دوسرے شخص کی خدمت کرے اہر