خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 608 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 608

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۶۰۸ ۲۸ / دسمبر ۱۹۷۲ء۔اختتامی خطاب کروڑ کی آبادی میں پانچ کروڑ ننانوے لاکھ نانوے ہزار نو سو ننانوے (۵٬۹۹,۹۹,۹۹۹) آدمی تو اس کے خادم بن سکتے ہیں اور اگر ہر شخص اپنی ہی خدمت کرے اور دوسرے کا خیال نہ رکھے تو وہ بیچارا اکیلا ہی خادم ہے۔پس ہر دوسرے شخص کی خدمت کرنا خدمت کے مواقع اور دروازے پیدا کر دیتا ہے۔اس حقیقت کو بھولنا نہیں چاہئے۔اس حقیقت کو ہمیشہ سامنے رکھنا چاہئے بے نفس اور بے لوث خدمت کرنا چاہئے۔کسی سے کچھ نہ مانگیں۔دینے والا تو خدا ہے۔وہ بہت کچھ دے دیتا ہے۔کل میں نے بتایا تھا تھوڑی سی چیز ہم نے دی تھی۔اللہ تعالیٰ نے اس کا بہت بڑا نتیجہ نکالا۔میرے سامنے ہمارے مبلغ آتے ہیں۔میرے پیارے بچے میرے ہاتھ پر بیعت کرنے والے میں ان کو یہی کہا کرتا ہوں دیکھو ہم ایک دھیلہ خرچ کرتے ہیں اور ایک ہزار گنا بڑھ کر اس کا نتیجہ نکل آتا ہے اور یہ بات ثابت کرتی ہے کہ یہ ہماری محنت اور قربانی کا نتیجہ نہیں ہے۔بلکہ یہ محض اللہ تعالیٰ کے فضل کا نتیجہ ہے۔ورنہ یہ دھیلہ تو دنیا بھی خرچ کرتی ہے لیکن اُن کا اتنازیادہ اور غیر معمولی نتیجہ کیوں نہیں نکلتا۔صرف اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کا فضل اُن کے ساتھ نہیں ہوتا۔پس دُعائیں کرو کہ جہاں تک دنیوی برکات کا سوال ہے وہ بھی اللہ تعالیٰ اس قوم کو عطاء فرمائے اور یہاں ہمارے ملک میں بھی کوئی آدمی ایسا نہ رہے جس کو کوئی دُکھ اور پریشانی ستارہی ہو۔اسی طرح ساری دنیا میں بھی ایک امن کی فضا پیدا ہو جائے اور اللہ تعالیٰ دُنیا کو عقل عطا فرمائے۔بڑی دُعا آج کل یہی کرنی چاہئے۔اس کے علاوہ یہ دراصل پہلی دُعا کو نمایاں کرنے کے لئے اس کا پہلے ذکر کر دیا ہے۔ورنہ یہ دوسری دعا کا حصہ ہے۔غلبہ اسلام کے لئے دعائیں کرنا مقصود ہے۔غلبہ اسلام مقدر ہے۔غلبہ اسلام کے لئے جس قدر اموال کی ضرورت ہے غلبہ اسلام کے لئے واقفین زندگی کی ضرورت ہے۔غلبہ اسلام کے لئے جس قدر مادی ذرائع کی ضرورت ہے۔غلبہ اسلام - لئے جس قدر اثر و رسوخ کی ضرورت ہے۔وہ ہمارے پاس نہیں بلکہ اس کا کروڑواں اربواں بھی نہیں ہے اور ہمیں خدا نے یہ فرمایا کہ باہر نکلو اور غلبہ اسلام کے لئے اپنے گھروں اورا رشتہ داروں کو چھوڑ دو اگر ہم بحیثیت جماعت پوری کی پوری کوشش کریں تب بھی نا کافی ہے۔محض نا کافی نہیں بلکہ کافی کوشش کا اربواں حصہ بھی نہیں ہے اس لئے ہمارے خدا نے ہمیں یہ فرمایا ہے کہ تمہاری جتنی طاقت ہے اتنا تم لے آؤ۔غلبہ اسلام کے لئے جتنی طاقت کی ضرورت ہے۔وہ