خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 589
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۵۸۹ ۲۸ / دسمبر ۱۹۷۲ء۔اختتامی خطاب نتائج بھی نکالے ہیں یا نہیں۔گدھے اور شیر کو یہ عقل نہیں دی۔خدا نے اُن سے جو کام لینے تھے اس کے مطابق انہیں جسم دے دیا اور جو انسان سے کام لینے تھے ان کے مطابق انسان کو جسم دے دیا۔یہ تمام جلوے جو مخلوق خدا بالخصوص انسان کی ذات میں ظاہر ہوئے۔صفت رحمانیت کے مظہر ہیں۔پھر ان حواس کے بقاء کے لئے انسان کو صورت اور سیرت بخشی۔وہ خود باقی نہیں رہ سکتا۔اس کو اس طرح نہیں بنایا کہ جس طرح ہم توپ کا گولہ پھینکتے ہیں اور وہ تباہی مچادیتا ہے اس میں بھی ایک جان ہوتی ہے۔اس میں بھی ایک حرکت پیدا ہوتی ہے۔وہ بھی زندگی کے مترادف ہے مگر توپ سے جو گولہ نکلا وہ جہاں گیا وہاں پھٹ گیا۔بس قصہ ختم ہوا لیکن انسان نے تو ایک معینہ مدت تک باقی رہنا تھا۔جب تک خدا تعالیٰ اسے زندہ رکھنا چاہے وہ زندہ رہتا ہے۔اس کی قوتوں کو اُٹھانے اور پیدا کرنے اور بڑھانے والے سامان پیدا ہونے چاہئے تھے۔چنانچہ خدا تعالیٰ نے اس کی بقاء کے لئے جن جن چیزوں کی اُسے ضرورت تھی وہ ان کے لئے مہیا فرما ئیں گویا یہ اس کا احسان ہے اور صفت رحمائیت کا مظہر ہے۔پس صفت رحمانیت ام الصفات اور اصل الاصول میں دوسرے نمبر پر ہے اور اس سے سب سے زیادہ فائدہ انسان اُٹھاتا ہے کیونکہ جانوروں کو بھی انسان کی خاطر قربان کر دیا جاتا ہے۔احسان کی تیسری صفت رحیمیت بھی ہے۔اس کا بھی محض انسان سے تعلق ہے صفت رحیمیت کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ انسان کی دُعا اور اس کی تضرع اور اعمال صالحہ کو قبول فرماتا ہے یہ اس کی رحیمیت ہے۔اس طرح وہ انسان کو آفات اور بلاؤں سے بچاتا ہے اور اس کی کوشش میں جو خامی اور نقص اور کمزوری رہ جائے اس کو دور کر دیتا ہے۔اس کی کوشش کو ضائع ہونے سے بچالیتا ہے۔سو ہمارا خدا بڑا رحیم خدا ہے۔آپ میں سے ہر ایک دوست سوچے۔بہت سے زمیندار دوست بیٹھے ہیں۔وہ سوچیں کہ انسان سے سستی اور غفلتیں ہو جاتی ہیں۔کبھی نیند آ جاتی ہے اور اس عرصہ میں کھیتوں کا پانی ٹوٹ جاتا ہے۔یا نہر کے پانی کی باری ہوتی ہے آدمی اُٹھ نہیں سکتا اور نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ زمین کے کچھ حصہ کو سو کا آ جاتا ہے۔اسی طرح ہزاروں مواقع ایسے آتے ہیں جہاں انسان سے غفلتیں ہو جاتی ہیں۔تاہم ایک طرف انسان کی کوشش ہے۔دوسری طرف اس کی