خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 588
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۵۸۸ ۱۲۸ دسمبر ۱۹۷۲ء۔اختتامی خطاب مثالیں دی جاسکتی ہیں۔مثلاً انسان کو آنکھیں دیں۔اس کو کان دیئے اس کو آنکھیں اور کان اس لئے دیئے کیونکہ اس نے دنیا کا معلم بھی بننا تھا اور اس طرح دوسرے حواس دیئے علم کی ابتداء حواس کے ذریعہ کی حواس سے حاصل ہونے والی معلومات کو علم کہتے ہیں آنکھوں نے جو دیکھا اور کانوں نے جو سنا۔ایک ایسا علم ہے جس کا ذریعہ گویا ہمارے حواس ہوتے ہیں۔جہاں تک آنکھ کا تعلق ہے میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ میرے سامنے ایک خاص شکل کا میدان ہے۔اس کے پرلے سرے پر کچھ سیٹرھیاں بنی ہوئی ہیں اور خلقت کا ایک ہجوم بیٹھا ہوا ہے مگر میری آنکھ اس پیار کو نہیں دیکھ سکتی جو میرے دل میں سے چشمہ کی طرح نکل کر آپ تک پہنچتا ہے اور نہ آپ کا وہ تعلق دیکھ سکتی ہے جو آپ کی طرف سے مجھے ملتا ہے۔( نعرے) لیکن میرے کان اظہارِ مسرت کے ان کلمات کو سنتے ہیں جو اس مجمع میں کہے جاتے ہیں مگر میرے کانوں نے اس کے پیچھے محبت و پیار کا جو جلوہ تھا وہ نہیں سنا۔صرف ایک آواز سنی ہے۔علم حاصل کرنے کی ابتداء جو اس کے ذریعہ ہوئی۔پھر اللہ تعالیٰ نے زبان دی ہے۔ہم سوال کر سکتے ہیں اور اس کے ذریعہ علم کو بڑھا سکتے ہیں۔سوال کرنا حصول علم کے لئے بڑا ضروری ہے اس لئے چھوٹے بچوں کو سوال کرنے دینا ہئے۔بعض دفعہ بچے اتنی کثرت سے سوال کرتے ہیں کہ استاد یا ماں باپ انہیں چیڑ لگا دیتے ہیں اور کہتے ہیں چُپ کرو کیوں ہمارے کان کھاتے ہو۔یہ طریق غلط ہے۔اس طرح تو گویا تم حصول علم کا ایک دروازہ بند کر رہے ہو۔بچوں کو سوال کرنے دو اور صبر سے اُن کو جواب دو۔تمہیں اللہ تعالیٰ نے کان دیئے ہیں اس کے سوال کو سُننے کے لئے اور انہیں زبان دی ہے سوال پوچھنے کے لئے۔پس اللہ تعالیٰ نے جس قسم کا کام لینا تھا اس کے مطابق انسان بنا دیا۔انسان اپنے جسم اور اپنی طاقت کے لحاظ سے ہر دوسری مخلوق سے زیادہ طاقتور ہے۔اللہ تعالیٰ نے گھوڑے کو شریعت نہیں دینی تھی۔اس لئے گھوڑے کو وہ جسم نہیں دیا۔نہ عقل اور سمجھ دی اور نہ علم کے حصول کے ذرائع دیئے ہیں۔یہ انسان کا خاصہ ہے۔اُسے عقل شعور عطا کیا کیونکہ اس نے حاملِ شریعت بننا تھا۔دراصل وہ فکر جو حواس سے حاصل شدہ علوم اکٹھا کرتی ہے اور نتیجہ نکالتی ہے وہ جانوروں کو نہیں دی گئی۔البتہ وہ عقل بتائی جو تحریر کی لیبارٹری میں جا کر دیکھتی ہے کہ میرے فکر نے صحیح