خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 590
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ---- ۵۹۰ ۲۸ / دسمبر ۱۹۷۲ء۔اختتامی خطاب کمزوری ہے یہ دونوں ساتھ ساتھ بلکہ متوازی چل رہی ہوتی ہیں۔خدائے رحیم اپنی رحیمیت کی صفت کے ماتحت انسانی کوششوں میں کمزوریوں کو دُور کرتا ، انسان کی کوششوں کو ضائع ہونے سے بچاتا اور کچی کوشش اور محنت کا پھل دیتا ہے۔احسان کی چوتھی صفت صفت مالکیت یوم الدین ہے۔صفت رحیمیت دُعا اور عبادت کے ذریعہ کامیابی کا استحقاق پیدا کرتی ہے۔جس طرح بی اے کا ایک نوجوان طالبعلم بڑی محنت کرتا ہے اور بڑے اچھے پرچے کرتا ہے۔نتیجتاً وہ فرسٹ ڈویژن میں کامیاب ہو جاتا ہے۔بظاہر وہ کامیاب تو ہو گیا لیکن اس معنی میں وہ کامیاب نہیں ہوا کہ اس کو نوکری بھی مل گئی۔اس کو یہ کہہ دیا گیا کہ تم اس قابل ہو گئے ہو کہ جہاں ایک اچھے گریجوایٹ کو لگایا جاتا ہے۔وہاں تمہیں بھی لگایا جا سکتا ہے اور بس لیکن دُنیا کی بادشاہتیں جس چیز کو نظر انداز کر دیتی ہیں ہمارا مالک خدا اپنی صفت مالکیت کے نتیجہ میں اس کا ثمرہ بھی عطا کرتا ہے۔ہمارا رب انسان کو صرف یہی نہیں کہتا کہ اے میرے بندے تو میری رضا کی جنت کا مستحق وگیا۔بلکہ وہ یہ بھی کہتا ہے ادْخُلِی جَنَّتِي ( الفجر : ۳۱) آ اور میری جنت میں داخل ہو جا کیونکہ میں مالک ہوں۔یہ اللہ تعالیٰ کی وہ چار بنیادی صفات ہیں جن کو اُتم الصفات اور اصل الاصول صفات کہا گیا۔ہے اور قرآن کریم کی سورۃ الحمد میں بیان ہوئی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ ان اصل الاصول چار صفات باری کی پہلی جلوہ گاہ انسان کامل کے دل کے سوا اور کوئی نہیں ہوسکی۔ان صفات کی پہلی جلوہ گاہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا دل ہے۔آپ کے دل پر ان صفات کا جلوہ نازل ہوا۔پس حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق قرآن کریم نے یہ اعلان کیا کہ آپ ان چار ام الصفات کے مظہر اتم ہیں۔مثلاً قرآن کریم نے کہا کہ اللہ تعالیٰ ربّ العالمین ہے۔قرآن کریم نے یہ بھی کہا کہ محبوب خدا حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رحمۃ للعالمین ہیں۔چنانچہ سورۃ انبیاء میں فرمایا وَ ما ارسلنكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَلَمِينَ (الانبياء : ١٠٨) - گویا صفت ربوبیت کے مظہر اتم ہونے کا جلوہ رحمتہ للعالمین کی شکل میں ظاہر ہوا۔آپ سے پہلے جتنے انبیاء گذرے ہیں وہ رحمت تو تھے لیکن رحمتہ للعالمین نہیں تھے۔ربوبیت کے مظہر تو تھے لیکن