خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 567
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۵۶۷ ۱۲۷ دسمبر ۱۹۷۲ء۔دوسرے روز کا خطار تمہیں یہ بتانے کے لئے آئے تھے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے انسانیت سے کتنا پیار کیا ہے۔آپ سکولوں کا معاوضہ دینا چاہتے ہیں ہمارا دل نہیں کرتا کہ ہم معاوضہ لیں۔اس لئے دوشکلوں میں سے ایک مان لو یا تو ہمیں چیک دو۔ہم ایک وفد کی صورت میں آ کر تمہاری خدمت میں تمہارے ہی علاقہ کے پسماندہ حصوں میں تعلیمی اغراض کے لئے پیش کر دیں گے اور اگر چاہو تو ہم وہ رقم لے کر ایک نئے سکول کی عمارت بنادیں گے اور ٹیچر منگوالیں گے اور بنی بنائی عمارت تمہارے حوالے کر دیں گے۔چنانچہ جب یہ وفد سوکوٹو کے گورنر کے پاس گیا تو دونوں باتوں سے بڑے خوش ہوئے اور گو پیسے تو حکومت نے بھی خرچ کرنے تھے لیکن وہ خصوصاً اس بات سے بڑے خوش ہوئے کہ جماعت نے ٹیچر ز کو یہاں خدمت کی اجازت دے دی ہے۔تاہم ابھی حکومت نے اس کا آخری فیصلہ نہیں کیا۔پس ہم ان کی خدمت کے لئے وہاں گئے ہوئے ہیں عیسائیوں کی طرح پیسے کمانے کے لئے نہیں گئے ہم تو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام ہیں۔آپ نے تو یہ اعلان فرمایا تھا۔مَا اسْلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرِ (الشعراء : ١١٠) کیا آپ یا میں کسی سے جا کر نیکی کرنے کی اجرت مانگیں گے؟ ہمارے آقا نے یہ اعلان کر دیا ہے کہ ہم اجرت نہیں مانگا کرتے۔ہم تو اللہ تعالیٰ کے عشق میں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پیار میں خدمت کے لئے دنیا کے کونے کونے میں پہنچ رہے ہیں اور انشاء اللہ پہنچیں گے اور پہنچیں گے جب تک کہ ساری دنیا کو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے جمع نہیں کر لیتے۔ہمارے ایک ڈاکٹر نے نانا سے مجھے لکھا (اس میں تھوڑی سی تربیت کی کمی تھی ) کہ غانا کا ملک ہیلتھ سینٹرز اور سکولوں کو قومیالے گا۔اس لئے ہسپتالوں اور سکولوں کی عمارتیں نہیں بنانی چاہئیں۔میں نے ان کو لکھا کہ میں عمارتیں اپنے لئے تو نہیں بنا رہا انہیں کے لئے بنا رہا ہوں۔اگر وہ قومی تحویل میں نہ بھی لیں تب بھی جس وقت میں نے دیکھا کہ جو ملک ہمارے ہسپتالوں اور سکولوں میں اپنے آدمی متعین کر کے ان سے صحیح فائدہ اٹھا سکتا ہے تو میں خود کہوں گا کہ وہ ان کو سنبھال لیں۔غرض ہم