خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 568
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۵۶۸ ۱۲۷ دسمبر ۱۹۷۲ء۔دوسرے روز کا خطار ہسپتال اور سکول کی عمارتیں ان کی خدمت کے کام کرنے کے لئے بنا رہے ہیں۔اس واسطے کوئی گھبرانے کی بات نہیں ہے۔غا نا میں ایک نئے کلینک کی عمارت پر بیالیس ہزارسیڈیز ( کوئی اڑھائی لاکھ روپیہ خرچ کرنے کے لئے منظور کر دیا ہے۔اتنی رقم ہمارے پاس پڑی ہوئی تھی اس سے یہ عمارت بھی بن جائے گی۔وہاں کے لوگ بڑے غیر تربیت یافتہ ہیں اور تہذیب و تمدن میں بڑے پیچھے ہیں کئی اچھے لوگ بھی ہیں مگر ان کو اچھے ہونے کے باوجود لالچ بھی آ جاتا ہے چنانچہ ایک پیرا ماؤنٹ چیف نے کہا میں تمہیں مفت زمین دیتا ہوں اور یہ کروں گا وہ کروں گا لیکن جب ڈاکٹر وہاں چلا گیا اور کام شروع ہو گیا تو ہم نے کہا تم نے زمین کا وعدہ کیا تھا اس لئے اب زمین دو کہ ہم اس کے اوپر ہسپتال کی عمارت بنائیں تو کہنے لگا کہ میں اس شرط پر زمین دیتا ہوں کہ جب میری مرضی ہوگی میں یہ زمین مع اس عمارت کے جو آپ بنائیں گے واپس لے لوں گا۔میں نے اپنے مشن سے کہا کہ یہ تو ان پر بھی ظلم ہے۔ان کی تربیت خراب ہوتی ہے۔جب تک زمین اپنے نام پر قانونی طور پر رجسٹری نہ ہو جائے اس وقت تک عمارت نہیں بنانی۔جب رجسٹری ہو جائے گی تو پھر تو جب دینی ہوگی حکومت کو دیں گے کسی فرد واحد کو نہیں دیں گے۔پس غانا میں میں نے ہسپتال بنانے کے لئے تین لاکھ روپے کی رقم کی منظوری دے دی ہے۔لیکن زمین کا جھگڑا تھا۔اب میرے خیال میں جلدی مل جائے گی۔اگلے سال انشاء اللہ ایک اور ہسپتال بن جائے گا۔غرض خدا نے پیسے بھی دیئے اور یہ جماعت پر اس کا بہت بڑا احسان ہے۔پھر خدا نے کام کرنے کے لئے آدمی بھی دیئے یہ بھی اس کا ایک بہت بڑا احسان ہے اور جس بات سے ہماری طبیعت جنتوں کی فضا میں سانس لینے لگ گئی وہ یہ تھی کہ خدا تعالیٰ نے جو خزانوں کا مالک ہے ہماری حقیر کوششوں کو قبول فرماتے ہوئے ہمارے اس پیسے میں اتنی برکت ڈالی کہ اس دنیا میں غیر معمولی طور پر ہمیں پینتالیس لاکھ روپے نفع بھی دیا اور یہ دلیل ہے اس بات کی کہ خدا تعالیٰ نے اپنے فضل اور رحم سے ہماری قربانیوں کو شرف قبولیت بخشا۔ورنہ برکت ڈالنا تو نہ میرا کام اور نہ آپ کی کوشش کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔یہ تو وہی جانتا ہے کہ جو بڑی برکتوں والا اور سارے خزانوں کا مالک ہے۔اس وقت تک ہمارے ہیلتھ سنٹر ز پانچ گیمبیا میں چار سیرالیون میں ، تین نائیجیریا میں اور