خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 566
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۲۷/ دسمبر ۱۹۷۲ء۔دوسرے روز کا خطاب لئے وہاں گئے ہیں اور آپ کی بے لوث خدمت نے ان کے دلوں پر بڑا اثر کیا ہے ان کو جو فائدہ ہوا وہ میں بتا دیتا ہوں۔اب مثلاً ہمارے سکول ہیں۔میں نے پہلے بھی بتایا تھا کہ شمالی نائیجیریا کا علاقہ مسلم نارتھ (Muslim North) یعنی مسلمانوں کا علاقہ کہلاتا ہے۔وہاں کی ایک ریاست ہے جس کا نام سوکوٹو ہے۔حضرت عثمان فو ڈیو جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے پہلی صدی میں نائیجیریا میں مجدد ہوئے تھے ، یہیں کے رہنے والے تھے۔سوکوٹو کے گورنر نے لیگوس میں اخباری بیان میں بتایا ہم تعلیم میں بہت پیچھے ہیں اس لئے ہم نے اپنی ریاست میں ہنگامی حالات کا اعلان کر دیا ہے۔میں نے ان کی تقریر ریڈیو پرسنی تو میں نے ایک افریقن بھائی سے کہا کہ تم کل چلے جاؤ اور ان سے کہو کہ میں تمہاری ریاست میں اپنے خرچ پر چار سکول کھولتا ہوں لیکن دو چیزوں میں تم ہماری مدد کرو اور ہم سے تعاون کرو ایک یہ کہ ہم پاکستان سے زمین نہیں لا سکتے۔ہمیں زمین دو جہاں ہم سکولز بنا ئیں دوسرے یہ کہ ہمارے ٹیچر ز تمہاری اجازت کے بغیر نہیں آسکتے ان کو آنے کی اجازت دو چنانچہ وہ بڑا خوش ہوا۔اس نے اجازت دے دی۔بڑی مدد دی۔ہم نے زمین خریدی۔ہم نے اس پر مکان بنائے۔ہم نے ابھی دوسکولوں کا کام مکمل کیا ہے اور ساڑھے نو لاکھ روپے ان کے اوپر خرچ کر دیئے ہیں۔جب یہ سکول کھل گئے تو ریاست نے اعلان کر دیا کہ ہم یکم جنوری سے سارے سکول قومی تحویل میں لے رہے ہیں لیکن انہوں نے یہ اعلان کیا کہ ایک تو ہم (جس نے سکولوں پر جتنا خرچ کیا ہے ہم اس کا معاوضہ دیں گے اور دوسرے یہ کہ اگر پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے اساتذہ قومی سکولوں میں پڑھانے کی پیشکش قبول کریں تو ہم ان کو موقع دیں گے۔نائیجیریا کی جماعت نے جب اس کے متعلق مجھے لکھا تو میں نے اپنے اساتذہ سے کہلا بھیجا کہ تم ان کی سروس میں شامل ہو جاؤ کیونکہ ہم ان کی خدمت کے لئے گئے ہیں ہمارے آدمی ان کی خدمت کریں گے۔تاہم گورنر سے وفد کی صورت میں ملو اور ان سے کہوں کہ ہم یہاں آئے ہم نے ان سکولوں کی عمارتوں وغیرہ پر پیسے خرچ کئے ہم نے اس لئے پیسے نہیں خرچ کئے تھے کہ ہم اس سے کوئی مالی فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔ہم تمہارے پیار کی وجہ سے یہاں آئے تھے۔ہم