خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 403 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 403

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۴۰۳ ۲۸ دسمبر ۱۹۶۹ء۔اختتامی خطاب کا مقام ہے اور یہی حقیقت محمدیہ ہے۔آپ اوپر گئے تو اللہ تعالیٰ نے پیار سے اٹھا کر آپ کو ا۔عرش پر بٹھا لیا اور بنی نوع سے ہمدردی کرنے کے لئے نیچے اترے تو جہاں تک کوئی دوسرا نبی نہیں پہنچ سکتا تھا اور وہاں روحانی طور پر گند ہی گندا اور عفونت ہی عفونت تھی وہاں پہنچ کر خدا کے بندے کو کہا گبھراؤ نہیں میں تمہیں نجات دینے کے لئے پہنچ گیا ہوں اور یہ ہے حقیقت محمد یہ۔اور ختم نبوت کی یہ حقیقت ہے کہ جو دور سے دیکھو آخر میں اور بلند تر آپ ہی نظر آتے ہیں۔محسن اعظم آپ ہی ہیں جہاں احسان کرنے کی غرض سے کوئی اور نبی نہیں پہنچ سکتا وہاں آپ نظر آتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس صفت کا جلوہ اپنے اندر لیا تھا جب آپ نے اس بات کا اعلان کیا کہ ہماری تو یہ حالت ہے کہ اگر ہمارا کوئی دوست شراب کے نشہ میں مہ کسی گندی نالی میں گرا پڑا ہو تو ہم اسے اپنے کندھے پر اٹھا کر اپنے گھر لے جائیں گے اور یہ نہیں سوچیں گے کہ دنیا کیا کہے گی۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی یہ نہیں سوچا کہ آپ کی بعثت سے بعد جو اعتراض کرنے والے تھے اور قیامت تک کی دنیا کیا کہے گی۔معترضین اب تک کہتے ہیں کہ آپ ایک وحشی قوم میں پیدا ہوئے وہ یہ کہتے ہیں کہ آپ نے افریقہ میں جا کر وحشیوں میں اسلام پھیلایا۔بعض قو میں اپنے آپ کو مہذب سمجھتی ہیں وہ اس قسم کے اعتراض کر دیتی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ وحشیوں کو انسان بنانا تو آپ کی شان ہے اور یہ آپ کا احسان عظیم ہے انسانیت پر انسانیت کے کسی ایک حصہ پر نہیں بلکہ ساری انسانیت پر ) آپ کا یہ احسان عظیم انسانیت کے اس حصہ پر بھی ہے جس سے زیادہ گندہ جس سے زیادہ پلید اور جس سے زیادہ گنہ گار کوئی نہیں۔آپ وہاں تک بھی پہنچے اور ان کی تسلی کا باعث بنے یہ مقام محمدیت ہے یہ اس وتر کا وسطی نقطہ۔جس رنگ میں میں نے اس مثال کو بیان کیا ہے اس کے لحاظ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانیت نے چار اطراف میں حرکت کی اور اس اپنے وتر کی حرکت میں آپ برزخ بین اللہ و بین المخلوق بن گئے یعنی تمام اوپر کے فیوض جو تھے وہ آپ نے مخلوق تک پہنچا دیئے اور مخلوق۔مراد صرف انسان نہیں بلکہ مخلوق سے مراد پتھر بھی ہیں، درخت بھی ہیں، ہیرے بھی ہیں، ریت کے ذرے بھی ہیں، پانی بھی ہے اور جو چیزیں مائع نہیں ہیں وہ بھی ہیں آکسیجن بھی ہے ہائیڈ روجن بھی