خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 404
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۴۰۴ ۲۸ دسمبر ۱۹۶۹ء۔اختتامی خطاب ہے یعنی مخلوق سے مراد ہر قسم کی مخلوق ہے جس کا علم ہمیں ہے یا جس کا علم آئندہ ہمیں ہو اس تمام مخلوق پر خدا تعالیٰ کے فضل اور اس کی ربوبیت کو جلوہ صرف محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل ہوا کیونکہ آپ الوہیت کی کمان اور کائنات کی کمان کے درمیان برزخ کے طور پر ہیں۔اس وتر میں اور اس برزخ میں آپ کی حقیقت یعنی حقیقت محمدیہ تو وسطی نقطہ ہے لیکن اس حقیقت کا پھیلا ؤ اس وسطی نقطہ سے لے کر وتر کے آخری حصہ تک ہے جہاں دونوں کمانوں کو اس نے ملا دیا ہے۔یہ پھیلا ؤ دائیں بھی ہے اور بائیں بھی ہے اور وہاں آپ کے وہ روحانی شاگرد کھڑے ہیں جو اپنے زمانہ کی ضرورت کے مطابق اور اپنی استعداد کے مطابق آپ سے فیض پاتے اور اس کو خدا کے بندوں تک جن کا ان کی قوم سے تعلق ہے پہنچاتے ہیں۔آپ کی روحانی تاثیر سارے وتر میں بھی پھیلی ہوئی ہے آپ بطور برزخ کے بھی ہیں اور وسطی نقطہ کے بھی۔آپ کی روحانی تاثیر آگے اور پیچھے پھیلی ہوئی ہے حضرت موسیٰ علیہ السلام ایک نیکی کا کروڑواں حصہ بھی حاصل نہیں کر سکتے تھے جب تک کہ وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قبول نہ کرتے۔حقیقت محمدیہ کو میں نے مختصر طور پر اور واضح الفاظ میں بیان کر دیا ہے ویسے جیسا کہ میں نے شروع میں بتایا تھا یہ بڑا عمیق مضمون ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو بڑی گہری کتابیں لکھی ہیں ان میں اس مضمون کو بیان کیا ہے یعنی براہین احمدیہ میں۔کیونکہ اس وقت عالم آپ کے مخاطب تھے۔بہر حال میں نے کوشش کی ہے کہ اختصار کے ساتھ اور جہاں تک میرے لئے ممکن ہو سکے وضاحت کے ساتھ آسان الفاظ میں اس حقیقت محمدیہ کو اپنے بھائیوں اور بہنوں کے سامنے پیش کر دوں تا کہ بنی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام کو سمجھنے کے بعد ان کے دلوں میں آپ کی شدید محبت پیدا ہو۔سچی بات یہ ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یہ کہا تھا کہ جوتی کا تسمہ لینا ہو یا آسمانوں کی رفعتیں حاصل کرنی ہوں تو سوائے اللہ کے کسی سے نہ مانگنا مگر یہ بھی ایک صداقت ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رب نے انسانیت کو مخاطب کر کے۔کہا تھا کہ جوتی کا تسمہ تمہیں ملے گا تو، اور اگر آسمانوں کی رفعتیں ملیں گیں تو وہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) میرے روحانی فرزند کے طفیل ہی ملیں گی اس کے بغیر نہیں مل سکتیں۔یہ ایک حقیقت ہے نا ،مگر اس عملی دنیا میں اس حقیقت اور صداقت کا جس