خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 390
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۳۹۰ ۲۷ دسمبر ۱۹۶۹ء۔دوسرے روز کا خطاب ہو جاتے ہیں اس لئے جو زائد رقم ہے اس میں سے رضا کارانہ طور پر اپنی خوشی سے کچھ اس کا من فنڈ میں دے دو جہاں سے وہ حقوق ادا ہوں گے۔جہاں خود وہ کارخانہ وہ حق پورا نہیں کر سکتا۔یہ قابل عمل سکیم ہو سکتی ہے۔پھر زراعت کے متعلق جو ہمارے ناظر زراعت ہیں ان کو سیکرٹری اور وکیل زراعت کو ایڈیشنل سیکرٹری مقرر کرتا ہوں۔پھر وہ زمینداروں میں سے لے کر کیونکہ اس میں ابھی ابتدائی کام بھی کرنے والا ہے آج دوسری طرف میں نے کافی سوچ لیا اس طرف مجھے آج ہی خیال گیا کہ ان کو بھی ساتھ شروع کر دوں۔میں سمجھتا ہوں کہ جو غریب دیہاتی ہے آج اگر حقیقت اللہ تعالیٰ نے کسی کو حقیقی ماں باپ کے علاوہ اس کا ماں باپ بنایا ہے تو وہ آپ احمدی ہیں۔اللہ تعالیٰ جس کو حقیقی ماں باپ کے بعد دوسرے کا ماں باپ بنا دیتا ہے اور وہ غفلت کرتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کا احسان فراموش ہے اور اسے اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرنا چاہئے۔جہاں تک ممکن ہو سکے اپنی طاقت سے اپنی ریسورسز (resources) یعنی ذرائع سے حقوق کی ادائیگی کے سامان پیدا کرو اور جہاں نہ ہو سکے وہاں اگر آپ کی آواز میں اثر ہو تو دوسروں کو یہ سمجھاؤ کہ وہ انسان کے حقوق ادا کریں ورنہ اللہ تعالیٰ مظلوم انسان کو یہ طاقت دے گا کہ وہ پھر ظلم کا بدلہ لیں اور بعض دفعہ اللہ تعالی ظلم کا بدلہ لینے والے کو تھوڑے سے ظلم کی بھی عملاً اجازت دے دیتا ہے میں شرعاً نہیں کہوں گا لیکن عملاً دنیا میں یہ ہوتا ہے۔اس واسطے ان کو اپنی فکر بھی کرنی چاہیئے۔ان کا اپنا فائدہ یہ ہے کہ جب تک ہر انسان کا حق ادا نہیں ہو جاتا ایک اصولی بات ہے اسے کبھی نہ بھولیں ) اس وقت تک ہر انسان کے دل میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا پیار پیدا نہیں ہو سکتا ہر انسان کے دل میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا پیار پیدا کرنے کے لئے آپ کو پیدا کیا گیا ہے اللہ تعالیٰ آپ کو اس کی توفیق دے۔از رجسٹر خطابات ناصر غیر مطبوعہ )