خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 389
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۳۸۹ ۲۷ دسمبر ۱۹۶۹ء۔دوسرے روز کا خطاب ہیں اور کارخانوں کے لئے تو میں ابھی ایک کمیٹی کا اعلان کر دیتا ہوں۔کارخانوں کی جو کمیٹی ہے اس کا نیوکلیس (nucleus) یعنی اس کا مرکزی نکتہ اس کا سیکرٹری میں سید محمد احمد صاحب کو بناتا ہوں جو شاہنواز جو سز میں مینجنگ ڈائریکٹر ہیں۔یہ مجھ سے مشورہ کر کے نیوکلیس (nucleus) اس طرح میں بنا دیتا ہوں وہ سات آدمیوں پر مشتمل ایک کمیٹی بنائیں اور اپنے مشورہ کے لئے اور میرے خطبات کو سمجھنے کے لئے (ممکن ہے بعض جگہیں ایسی ہوں جو عملی شکل دینے کے لئے ان کو سمجھ بھی نہ آئے پس مجھ سے بھی اور دوسروں سے بھی مشورہ کریں اور تین مہینے کے اندراندر وہ یہ سکیم میرے سامنے پیش کریں کہ ہمارے نزدیک قرآن کریم کی اقتصادی تعلیم کی روشنی میں احمدی کارخانہ دار کو اپنے کارکنوں یعنی مزدوروں وغیرہ سے اس قسم کا ان اصولوں پر سلوک کرنا چاہئے۔نمبر دو یہ کہ اپنے سرمایہ اور سالانہ نفع کے لحاظ سے آیا وہ یہ سلوک کرنے کے اہل بھی ہیں یا نہیں۔ایک کارخانہ دار کہہ سکتا ہے کہ ٹھیک ہے ہم تیار ہیں لیکن آپ ہمارے حساب دیکھیں ہمیں اتنا نفع ہی نہیں آتا کہ ہم اتنا دے دیں۔ہم انہیں یہ کہیں گے کہ جو اسلام کے اصول حقوق کی تعیین کر رہے ہیں تم واقع میں چونکہ ان کو پورا ادا نہیں کر سکتے اس لئے ہم یہ کہتے ہیں کہ تم سو فیصدی حقوق ادا نہ کرو تم اسی فیصدی حقوق ادا کر دو باقی نہیں فیصدی ہم جماعت کی طرف سے ادا کر دیں گے۔پس اس طرح حق کی تعیین ہو جائے گی حق کی تعیین ہو جانے کے بعد یہ کہنا کہ ہم حق نہیں دیتے یہ میچ نہیں سوائے اس کے کہ ان کو جماعت یہ کہے کہ ہم بھی دینے کے لئے تیار ہیں لیکن ابھی اللہ تعالیٰ نے ہمیں پیسے نہیں دیئے یہ تو اور بات ہے لیکن یہ کہنا کہ حق کی تعیین ہو گئی ہے اور جماعت کو توفیق ہے یا نہیں۔اس کا پتہ ہی کسی کو نہیں پھر خواہ مخواہ اعتراض پیدا ہوگا پس اگر اللہ تعالیٰ جماعت کو یہ توفیق دے گا مجھے امید ہے اللہ تعالیٰ توفیق دے گا۔تو ایسے کارخانوں کے بقیہ فی صد حقوق جماعت کی طرف سے ادا ہو جائیں گے پس کارخانہ دار ہوشیار ہو جائیں۔میرے نزدیک تو اسلام کا یہ مسئلہ ہے جن کارخانوں کو اللہ تعالیٰ بہت زیادہ نفع دے اور حقوق تو بہر حال معین ہیں ان سے زیادہ اگر وہ نہ دیں تو ان پر کوئی الزام نہیں کوئی گناہ نہیں وہ اپنے کارخانے کے کارندوں کے حقوق ادا کر دیں اور ان کی اپنی ضرورتوں سے زیادہ کچھ رہ جائے تو ہم ان سے جبرا نہیں لیں گے۔ان کو ہم یہ تحریک کریں گے کہ تمہارے حقوق بھی ادا ہو جاتے ہیں تمہارے پاس کام کرنے والوں کے حقوق بھی ادا