خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 388 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 388

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۳۸۸ ۲۷ دسمبر ۱۹۶۹ء۔دوسرے روز کا خطار لئے میں یہ اصول وضع کرتا ہوں حق کے متعلق اور حق کی یہ تعریف کرتا ہوں کہ ہر فرد واحد کو میں نے یعنی اللہ رب العالمین نے جو ہر قسم کی قوتیں اور استعداد میں دی ہیں میں چاہتا ہوں کہ ان کی صحیح اور کمال تک نشو ونما ہو۔اس لئے ان قوتوں اور استعدادوں کی نشو و نما کو کمال تک پہنچانے کے لئے جس چیز کی بھی ضرورت ہے وہ اس کا حق ہے اور اگر اس کا یہ حق نہیں ملتا تو وہ مظلوم ہے اور کوئی اور غاصب ہے اب یہ اتنی حسین اور comprehensive ( یعنی جامع تعریف ہے کہ اس کے مقابلے میں کوئی انسانی تعریف پیش ہی نہیں کی جاسکتی۔یہ میں دھڑلے کے ساتھ آج کمیونسٹ اور سوشلسٹ ملکوں کو بھی چیلنج کرنے کے لئے تیار ہوں اور یہاں جو ان کے ساتھ ہمدردیاں رکھنے والے ہیں ان سے بھی میں کہتا ہوں میرے ساتھ آ کر آرام سے باتیں کریں میں ان کو قائل کر دوں گا اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہتوں کو میں کر چکا ہوں۔پس اسلام نے اتنی حسین تعلیم دی ہے کہ دنیا دا راپنے اصول اور اپنے فلسفوں کو لے کر اسلام کے مقابلے میں کھڑے ہی نہیں ہو سکتے۔اب وقت آ گیا ہے کہ ہم عملی شکل میں ان کو قائم کریں۔ایک چھوٹی سی تصویر صدر انجمن احمدیہ کی امدادوں میں نظر آتی ہے۔صدرانجمن احمدیہ کے کارکنوں کا جہاں تک تعلق ہے کیونکہ وہ واقفین ہیں اور فدائی ہیں وہ تو آتے ہی اس معاہدے پر ہیں کہ ہم رے حقوق نہیں مانگیں گے کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے لئے کام کر رہے ہیں۔یہ شکل ہم ایسی جگہ قائم کر سکتے ہیں جہاں وقف کا تخیل نہ ہو۔ایسا موقع اللہ تعالیٰ نے ہمیں دیا ہے جہاں ہم یہ کر سکتے ہیں اور وہ احمدیوں کی انڈسٹری (industry) ہے۔اس لئے آج میں یہ اعلان کرنا چاہتا ہوں کہ احمدی جن کا رخانوں کے مالک ہیں وہ اپنے کارخانوں کے مزدوروں کی اجرتوں میں اسلامی اصول کو اپنائیں اور وہ اس کے مطابق کام کریں اسی طرح وہ زمیندار جن کو ایک خاص رقبہ سے زیادہ اللہ تعالیٰ نے زمینیں دی ہیں اب میں سوچ رہا ہوں میرے ذہن میں ابھی یہ نہیں آیا کہ وہ رقبہ کتنا ہو میں بعد میں اعلان کروں گا ممکن ہے مشورہ کرنا پڑے وہ زمیندار بھی اسلام نے جو اقتصادی اصول بنانے ہیں اُن کے مطابق ذمہ داری لیں ان لوگوں کی جو غیر زمیندار اور ان کے ساتھ تعلق رکھنے والے ہیں۔ہم ایسا کر سکتے ہیں اللہ تعالیٰ نے احمدیوں کو زمینیں بھی دی ہیں اور بڑے کارخانے بھی دیئے