خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 387
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۳۸۷ ۲۷ دسمبر ۱۹۶۹ء۔دوسرے روز کا خطاب نے بڑا فضل کیا ہے آپ کی دعائیں بھی لگیں یعنی اللہ تعالیٰ کے فضل کو جذب کرنے کا ذریعہ بنیں۔میں اتنا لمبا بول سکا ہوں۔میرا سر انفلوانزا کی وجہ سے پکڑا ہوا ہے سب سے اچھا نعرہ جوسمجھا جاتا ہے کہ غریب کے حق میں کبھی لگایا گیا ہے وہ یہ ہے کہ "From each according to his ability and to each according to his need" یعنی کسی پر اس سے زیادہ بار نہ ڈالا جائے جس کی وہ طاقت رکھتا ہے اور ہر شخص کو اس کی ضرورت ہے۔یعنی نیڈ (need) کے مطابق دے دیا جائے لیکن اس کے اندر فساد اور فتنہ یہ ہے کہ ضرورت یا نیڈ (need) کہا مگر ضرورت یا need‘ کی تعریف نہیں کی۔چنانچہ چین میں need ( یعنی ضرورت ) کی تعریف اور کی جارہی ہے اور یوگوسلاویہ میں اور تعریف کی جارہی ہے اور جہاں جو مرضی چاہے تعریف کرتا ہے۔اسلام نے اس کے مقابلے میں ضرورت غربت کا لفظ استعمال نہیں کیا بعض جگہ استعمال کیا ہے مگر وہ اپنی اصطلاح میں کیا ہے۔بعض جگہ بعض لوگ جن کو سمجھ نہ ہو ممکن ہے انہیں غلط فہمی ہو جاتی ہو لیکن میں آپ کو بتا دیتا ہوں کہ وہ اپنی اصطلاح ہے۔اسلام نے یہ کہا ہے کہ کسی انسان کا یہ حق نہیں ہے کہ وہ اپنے یا کسی غیر کے حق کی تعیین کر سکے۔کسی انسان کا یہ حق ہی نہیں کیونکہ عقلاً بھی اور شرعاً بھی اور واقعتا بھی کسی شخص کے حق کی تعیین وہی کرسکتا ہے جو اس شخص اور اس کے حالات اور اس کی طاقتوں اور اس کی قوتوں اور اس کی ضرورتوں کا پور اعلم رکھتا ہو۔جو پورا علم نہیں رکھتا وہ تعین نہیں کر سکتا اور سوائے اللہ کے کوئی علم نہیں رکھتا اس واسطے اسلام نے کہا ہے کہ سوائے اللہ تعالیٰ کے انسان کے حق کی تعیین کوئی دوسری ہستی کر ہی نہیں سکتی۔اب اللہ تعالیٰ نے کہا کہ میں حق کی یہ تعریف کرتا ہوں کہ چونکہ میں نے انسان کو پیدا کیا اور میں نے ہر فرد واحد کو وہ قوتیں اور استعداد میں دیں جو اس کے اندر پائی جاتی ہیں اور اسلام نے کہا کہ یہ قوتیں اور استعداد میں چار قسم کی ہیں یعنی جسمانی، ذہنی، اخلاقی ، اور روحانی ، غرض اللہ تعالیٰ نے یوں فرمایا کہ میں نے ہر فرد واحد کو چار قسم کی قوتیں اور استعداد یں دیں یعنی جسمانی قوتیں روحانی استعداد میں اخلاقی اور ذہنی استعداد میں اور مجھے پتہ ہے کہ وہ کس فرد کے پاس کتنی کتنی ہیں۔اس