خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 348
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۳۴۸ ۲۶ دسمبر ۱۹۶۹ء۔افتتاحی خطاب نیستی ہمارے وجود کی اصلیت اور حقیقت ہے۔اے خدا ہمیں اس حقیقت پر ہمیشہ قائم رکھ۔نہ ہمارا جوان اپنی قوت پر اترائے۔نہ ہمارا بوڑھا اپنی لاٹھی پر بھروسہ رکھے۔نہ ہمارا عاقل اور فہیم اپنے عقل و فہم پر ناز کرے۔نہ کوئی عالم اور فقیہ اپنے علم کی صحت اور اپنی دانائی کی عمدگی پر اعتبار کرے۔اور نہ ہمارا ملہم اپنے الہام اور کشف یا دعاؤں کے خلوص پر تکیہ کرے کیونکہ تو اے ہمارے رب ! ہمارے محبوب !! جو چاہتا ہے کرتا ہے۔جن کو چاہے اپنے حضور سے دھتکار دے اور جن کو چاہے اپنے خاص بندوں میں شامل کر لے۔اے ہمارے معبود ! ہم تیرے عاجز اور بے مایہ بندے، عبودیت تامہ کے حصول کے لئے سرگرداں عبادت تو تیری ہی کرتے ہیں۔لیکن پریشان خیالی اور شیطانی وسوسہ اندازی اور خشک افکار اور مہلک اوہام اور تاریک خیالات کے ساتھ ہم سیلاب کے گندے پانی کی مانند ہیں۔اور گمان اور ظن سے ہم چھٹکارا حاصل نہیں کر سکتے۔اے رحمت اتم ! تو اپنے بے پایاں فیض سے خود اپنا چہرہ دکھا۔تاحق و یقین ہمیں نصیب ہو۔اے ارحم الراحمین! ہم تیری ہی نصرت کے طالب ہیں اور تجھ سے ہی مدد مانگتے ہیں۔، وق شوق حضور قلب بھر پور ایمان کے ملنے کے لئے ، تیرے احکام پر لبیک کہنے کی توفیق کے لئے سرور اور ٹور کے لئے معارف کے زیورات اور حقائق و دقائق کے لباس کے ساتھ دل کو آراستہ کرنے کے لئے۔تاہم تیرے فضل، تیرے رحم کے ساتھ یقین کے میدانوں میں سبقت لے جانے والے بن جائیں اور اسرار وحقائق کے دریا پر وارد ہو جائیں۔اے ہمارے رحمان ! ہوائے نفس کی موجیں ٹھاٹھیں مارتی رہتی ہیں اور ہمیں غرق کرتی رہتی ہیں۔نفس کے عوارض ایک چکر میں ہیں اور ہوائے نفس کے قیدی ہلاک ہوتے رہتے ہیں اور کم ہیں جو نفس امارہ کی اس یلغار سے محفوظ رہتے ہوں ! اے ہمارے رحمان! تو خود ہی ہماری حفاظت کر۔اے شافی حقیقی ! ایک حاذق طبیب کے رُوپ میں ہم پر جلوہ گر ہو۔ہمیں اپنی طرف کھینچ لے۔ہمیں اپنے سینہ سے لگالے تا ہم تیری محبت میں دیوانے مستانے بن جائیں۔اور سب امراض نفس سے شفا پائیں۔ہمیں سعادت دے اور اس سعادتمندی پر قائم رہنے کی ہمیشہ توفیق بخش اور اپنے پاک بندوں میں ہمیں شامل کرلے۔