خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 347
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۳۴۷ ۲۶ دسمبر ۱۹۶۹ء۔افتتاحی خطاب ہیں جن کی تفصیل حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی کتب میں بیان کی ہے۔ان دعاؤں کا خلاصہ اس وقت میں بلند آواز سے پڑھوں گا۔آپ آمین کہتے رہیں اور اس کے بعد پھر ہاتھ اُٹھا کر دعا ہو گی۔اللہ تعالیٰ سفر و حضر میں آپ کا بھی اور ہمارا بھی حافظ و ناصر ہو۔اللہ تعالیٰ نے جس غرض کے لئے اسلام کو دُنیا میں قائم کیا ہے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا ہے اور جس مقصد کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک عظیم روحانی فرزند بنایا ہے وہ مقصد پورا ہوا اور ہمیں اللہ تعالیٰ کی توفیق ملے کہ ہم بھی اس کے لئے کچھ خدمت کرنے کے قابل ہوں اور ہماری وہ حقیر خدمات اللہ تعالیٰ کے حضور مقبول ٹھہریں۔الحمد للہ۔الحمد للہ۔اے اللہ ! ہم ان بے حد و حساب نعمتوں پر تیرا شکر ادا کرتے ہیں جو تو نے محض اپنی ربویت اور رحمانیت کے جلووں سے ہمیں عطا کیں۔ہماری دعا ہماری التجاء ہمارے عمل، ہماری سعی ہمارے مجاہدات انہیں کہاں پاسکتے تھے۔لیکن اے ہمارے ربّ! تو اپنے عاجز بندوں کی دعائیں بھی تو قبول فرماتا ہے۔اے ہمارے مالک! تو عمل اور مجاہدہ پر اپنی رحمت بے پایاں سے ثمرات حسنہ بھی تو مرتب کرتا ہے۔دُعا اور سعی پیہم کی ہمیں تو فیق عطا کر انہیں قبول فرما اور نعماء ہمیں بخش جو دعا اور مجاہدہ پر عطا کی جاتی ہیں، ہمیں اپنا حقیقی خادم بنادے صدق وسداد دئے حق و صداقت پر ثبات قدم عطا کر خوشحال زندگی ہمارے لئے مقد رکر دے اور فلاح اور کامیابی ہمارے نصیب میں کر دے۔(آمین) اے ہمارے خدا! ہم بے علم اور کمزور ہیں۔تیری مدد اور نصرت کے بغیر ہم تیری رضا کی راہوں کو تلاش نہیں کر سکتے۔اے ہمارے رب! تو خود مہربانی فرما اور ہمارے صحن سینہ اور وسعت دل کو اپنی ذاتی محبت سے معمور کر دے تا ایک اصیل اور تیز روگھوڑے کی طرح ہم تیری طرف دوڑیں اور تیرے حضور جا حاضر ہوں۔ماں باپ سے بڑھ کر پیار کرنے والے! پیار سے ہمیں اُٹھا اور اپنی گود میں ہمیں بٹھا لے۔رکبر وغرور تیرے در کے لعین اور دھتکارے ہوئے لیکن تذلل اور انکسار تیرے عرش کی لونڈی ہیں اے خدا! ہمارے دل کی بھی یہی مکین ہوں۔