خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 349 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 349

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۳۴۹ ۲۶ دسمبر ۱۹۶۹ء۔افتتاحی خطاب اے ہمارے ہادی! صراط مستقیم نعمت عظمی ہے۔ہر نعمت کی جڑ اور ہر عطا کا دروازہ ہے۔اے ہمارے محبوب ! اے ہمارے مقصود !! سیدھی راہ ہمیں دکھا۔یہ نہ مٹنے والی روحانی بادشاہت ہمیں عطا کر۔تیرے تفضلات اور تیری نعماء کا مسلسل ہم پر نزول ہو۔ان نعمتوں، ان فضلوں کو قبول کرنے کے لئے ہمیں تیار کر اور ان کا ہمیں اہل بنا۔تا اندھیری راتوں کے بعد خوشگوار زندگی اور ظلمات اور تاریکیوں کو دور کر دینے والا اور ہم پائیں تا اے ہمارے رب ! ہلاکت سے قبل ہر قسم کی لغزش اور ضلالت سے ہم نجات حاصل کر لیں۔اے ہمارے رب ! ہمارے مالک ! ! اپنے ہی فضل سے ہمارے دلوں میں اپنی ذاتی محبت کا شعلہ بھڑ کا۔اپنے نشانوں سے اپنی ہستی پر ہمیں حق الیقین بخش۔اے ہمارے محبوب ! اپنے چہرے سے نقاب اُٹھا اور رخ انور کا ہمیں جلوہ دکھا۔اے محسن ! تیرے احسان کی نورانی لہریں ہمارے فانی وجود میں کروٹ لیں ہمارا ذرہ ذرہ تجھ پر قربان۔تیری سوزشِ محبت ہر وقت ہمارے سینے کو گرماتی رہے۔تیری عظمت اور تیرے جلال کا جلوہ کچھ اس طرح ہمیں اپنی گرفت میں لے کہ دنیا اور اس کی ہر شے تیری ہستی کے آگے مردہ متصور ہو۔ہر خوف تیری ہی ذات سے وابستہ رہے۔تیرے درد میں لذت پائیں اور تیری خلوت میں راحت۔تیرے بغیر دل کو کسی پہلو کسی کے ساتھ قرار نہ ہو۔اے ہمارے بچے اور حقیقی محسن ! ہمیں اپنی محبت کی نعمت سے مالا مال کر۔اپنی روح ہم نے تیرے سپرد کی۔اپنی ہستی تجھے سونپی۔ہم تجھ سے ہی اپنی محبت کو خاص کرتے ہیں۔عاجزانہ اور متضرعانہ ہم تیری طرف آتے ہیں۔تیری رحمت تیری شفقت کے ہم بھکاری ہیں۔ہم غافلوں کی غفلت کے پردے پھاڑ کر پرے پھینک دے۔ہماری چال کوسیدھا کر۔ہماری روح تیری عظمت اور جلال کے خوف سے لرزاں اور ترساں ہے۔تیری محبت رگِ جان بن جائے۔محبوب! ہماری مدد کو آ۔یقین اور ایمان کو پختہ کر۔تا ہم اپنے پورے دل اپنی ساری خواہشات اپنی عقل، اپنے اعضا، اپنی زمین اور کھیتی باڑی اپنی تجارت اور صنعت وحرفت اور اپنے پیشہ۔سب کے ساتھ کلی طور پر تیری طرف ہی مائل ہو جائیں تیرے سوا سب سے منہ موڑ لیں۔ہماری نگاہ میں اے ہمارے محبوب! تیرے سوا کچھ بھی باقی نہ رہے۔ہم صرف تیری ہی