خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 314
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۳۱۴ ۲۸ / دسمبر ۱۹۶۸ء۔اختتامی خطاب وہاں ہمیں تفسیر کرنی پڑتی تھی یہ تفسیری احادیث ہیں۔ایک حدیث کے الفاظ یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو فرمایا کہ " لَوْلَاكَ لَمَا خَلَقْتُ الَّا فَلاكَ (موضوعات کبیر زیر حرف لام) اگر پیدائش عالم کی غرض تیرا وجود پیدا کرنا نہ ہوتا تو پیدائش عالم بھی نہ ہوتی اس کا ئنات کو پیدا ہی نہ کرتا۔اس حدیث کے الفاظ پر لفظی طور پر بعض لوگوں نے اعتراض کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ اس کی سند پختہ اور ثقہ نہیں ، مشکوک ہے لیکن اس کے معنے پر سب نے اتفاق کیا ہے۔کہنے والے کہتے ہیں کہ ہماری تحقیق کے مطابق یہ الفاظ نہیں لیکن وہ یہ نہیں کہتے کہ یہ مفہوم کسی اور لفظ یا جملے میں ادا نہیں کیا گیا۔ہمارے جو بڑے مشہور اور بڑے ثقہ علمائے ربانی گزرے ہیں ان کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اس قسم کے الفاظ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتلائے گئے۔مثلاً وہ یہ کہتے ہیں کہ اس حدیث پر اعتراض نہیں اس کے الفاظ یہ ہیں کہ اگر تو نہ ہوتا تو میں جنت کو نہ پیدا کرتا۔تو معنے کے لحاظ سے تو وہی ہیں یعنی جنت کو پیدا نہ کرتا یعنی ساری پیدائش بے مقصد ہو جاتی اور خدا تعالیٰ بے مقصد کوئی کام نہیں کرتا۔تو یہ پیدائش ہی نہ ہوتی۔اسی طرح بعض دوسرے الفاظ کے متعلق انہوں نے یہ کہا ہے کہ ان پر روایت کے لحاظ سے کسی قسم کا اعتراض نہیں پڑتا تو جہاں تک لَوْلَاكَ لَمَا خَلَقْتُ الافلاک» (موضوعات کبیر زیر حرف لام) کے الفاظ کا تعلق ہے۔روایت کے لحاظ سے یہ ضعیف ہے لیکن درایت کے لحاظ سے، معنے کے لحاظ سے جو دوسرے الفاظ ہمیں مختلف معتبر احادیث میں ملتے ہیں ان سے ہمیں پتہ لگتا ہے کہ یہ بڑی ثقہ حدیث ہے۔اپنے مفہوم اور معنے کے لحاظ سے اس میں کوئی ضعف نہیں۔دوسرے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہے۔یہ مسند احمد بن حنبل کی حدیث ہے کہ۔قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي عَبْدُ اللهِ لَخَاتَمُ النَّبِيِّينَ وَإِنَّ آدَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ لَمُنْجَدِلٌ فِي طِيْنَتِه ( مسند احمد بن حنبل جلد ۴ صفحہ ۱۲۷) کہ میں اللہ کا بندہ یقیناً خاتم النبین ہوں اس وقت سے کہ آدم کی پیدائش بھی نہیں ہوئی تھی۔ایک اور حدیث میں ہے غالبا مسلم کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش خلق کا ئنات سے پچاس ہزار سال پہلے ( یا کتنے سال پہلے غالباً پچاس ہزار سال پہلے ) ہوئی تھی ( تو پچاس یا