خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 315
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۳۱۵ ۲۸ / دسمبر ۱۹۶۸ء۔اختتامی خطاب ساٹھ یا ستر یہ ہمارے محاورہ میں ہوتا ہے کہ کہیں پہلے تھی )۔تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کریم کی متعدد آیات کی جو تفسیر کی ہے وہ ان الفاظ میں ہے کہ اگر میرا یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود نہ ہوتا تو کائنات کی پیدائش اور خلق : ہوتی اور اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود نہ ہوتا تو بنی نوع انسان کی پیدائش نہ ہوتی اور اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود نہ ہوتا تو کسی نبی کی پیدائش بھی نہ ہوتی۔اب یہ حدیث اور اس حدیث کے متعلق تو میں نے مختصراً بعض باتیں بتائی ہیں کہ معنے کے لحاظ سے کوئی اعتراض اس پر نہیں مانا گیا۔اس حدیث کے متعلق میں ذرا تفصیل سے روشنی ڈالنا چاہتا ہوں کیونکہ میرے نزدیک یہ حدیث قرآن کریم کی ان متعدد آیات کی تفسیر ہے۔بعض لوگ کہہ دیا کرتے ہیں کہ پتہ نہیں کیا مطلب تھا اور اس کے راوی کیسے تھے۔تو ہمارے پاس اس بات کی پختہ شہادت ہونی چاہئے کہ ان الفاظ میں جو کچھ بیان کیا گیا ہے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی بیان کیا ہے اور وہی حقیقت ہے۔شواہد ایسے ہونے چاہئیں جن کا انکار نہ کیا جا سکے۔چنانچہ پہلی شہادت روایت کی ہے تو میں نے اس کے متعلق جو مختلف حوالے نکلوائے۔ہاں ایک تو یہ کہ یہ حدیث صرف مسند احمد بن جنبل میں نہیں بلکہ اس حدیث کو بعض خفیف لفظی تبدیلیوں کے ساتھ طبقات ابن سعد۔کنز العمال - الخصائص الکبریٰ اور مشکوۃ میں بھی بیان کیا گیا ہے یعنی صرف مسند احمد بن حنبل کی نہیں بلکہ اور حدیث کی کتب میں بھی یہ حدیث پائی جاتی ہے اور اس کے جو راوی ہیں جنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے یعنی روایت کا سلسلہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا کے پہنچا ہے تو جو شخص صحابہ میں سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی روایت کرنے والے ہیں وہ عرباض بن ساریہ ہیں۔ان کے متعلق زرقانی شرح مواہب اللہ نیہ میں لکھا ہے کہ پرانے صحابہ میں سے تھے۔اصابہ فی معرفت الصحابہ میں لکھا ہے کہ مشہور صحابی اور اصحاب الصفہ میں سے تھے۔انہی کے حق یہ آیت نازل ہوئی وَلَا عَلَى الَّذِينَ إِذَا مَا آتَوُكَ لِتَحْمِلَهُمُ (التوبة : ۹۲) (آگے چلتی ہے یہ آیت) اور لکھا ہے یہ صحابہ میں۔ایک عظیم بزرگ تھے۔