خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 313 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 313

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ٣١٣ ۲۸ / دسمبر ۱۹۶۸ء۔اختتامی خطاب وَرَفَعَ بَعْضَهُمْ دَرَجَتٍ (البقرة : ۲۵۴) میں بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ اس دعوئی کا ذکر ہے کہ ایک وہ انسان بھی پیدا ہوا جو اپنے درجات میں ارفع مقام تک پہنچا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بلند تر مقام تک جو انسان اپنی روحانی ارتقاء میں پہنچ سکتا تھا وہاں پہنچے اور یہ بعض سے مراد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔اسی طرح إِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ (القلم ) (۵) کے معنے ہیں کہ تیرے اخلاق اتنے عظیم ہیں کہ اس سے زیادہ عظمت والے اخلاق انسانی دماغ سوچ ہی نہیں سکتا۔اسی طرح اور بہت سی آیات ہیں جن میں قرآن کریم نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ آپ ہی اشرف المخلوقات ہیں یعنی خلق کی جو غرض اور غایت تھی وہ آپ کے وجود میں پوری ہوئی۔آپ کی وجہ سے یہ کائنات بنی اور آپ کی قوت اور تاثیر اور مقام کے نتیجہ میں خلق میں سے ہر چیز کو خدا کی صفات کا وہ جلوہ ملا جو ملا۔کیونکہ جو خلق ہے اس پر اسلام نے روشنی ڈالی ہے۔مثلاً آپ کو گندم کا دانہ نظر آتا ہے، چنے کا دانہ نظر آتا ہے اور مکی کا دانہ نظر آتا ہے اور سرسوں کا دانہ نظر آتا ہے آگے پھلوں میں کیلا یا آم وغیرہ ہر چیز نظر آتی ہے یا ہیرا نظر آتا ہے یا قوت نظر آتا ہے زمر د نظر آتا ہے یا درخت نظر آتے ہیں یا جھاڑیاں نظر آتی ہیں پھولوں کے چھوٹے چھوٹے پودے نظر آتے ہیں یا مختلف رنگوں کے پھل نظر آتے ہیں اور سب سے زیادہ پھول گلاب کا نظر آتا ہے کتنی چیز میں نظر آرہی ہیں تو وہ وجود جو ہے اس کی حقیقت یہ ہے ماہیت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی کسی صفت کا ظل اور اثر ہے تو ساری مخلوق اظلال و آثار صفات باری ہیں۔اس سے زیادہ ان کی کوئی ماہیت نہیں۔تو ہر جلوہ جو ہمیں ملا ہے کیونکہ اس وقت یہ مضمون ہے میرا اس کے تسلسل میں کہوں گا کہ اللہ تعالیٰ کی صفات کا ہر جلوہ جو جس رنگ میں ہمیں وہ کائنات میں نظر آتا ہے اور پیدائش عالم سے لے کر آج تک نظر آتا رہا ہے اور آج سے لے کر قیامت تک نظر آتا رہے گا۔یہ جلوہ اسی لئے ہے کہ اس جلوہ کی وجہ سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اللہ تعالیٰ کی تمام صفات کے ہر قسم کے جلوے ختم ہو گئے اس لئے جس چیز میں بھی ہمیں خدا تعالیٰ کی کسی صفت کا کوئی جلوہ نظر آتا ہے وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل ہی ہے۔ان آیات کی روشنی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑی وضاحت کے ساتھ یہ دعویٰ کیا ہے