خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 273 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 273

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۲۷۳ ۲۷ دسمبر ۱۹۶۸ء۔دوسرے روز کا خطا۔یہی حال رہا۔گویا جو سال گزرا وہ ہمارے لئے پریشانیوں کا سال تھا۔وہ ہمارے لئے دکھوں کا سال تھا وہ ہمارے لئے دکھ وہ الفاظ سننے کا سال تھا ہمارے لئے یہ سارا عرصہ دیواروں پر دکھ دہ الفاظ پڑھنے کا عرصہ تھا۔یہ سب صحیح ہے لیکن یہ وہ سال ہے جس میں خدا تعالیٰ کے فضل سے یورپین ممالک میں پہلے سے زیادہ بیعتیں ہوئی ہیں۔ان علاقوں میں جہاں مذہب سے کوئی دلچسپی نہیں رکھی جاتی تھی اور جہاں ایسے لوگ تھے جو ہمارے محبوب اور پیارے اور مقصود اور مطلوب پیدا کرنے والے رب کا انکار کرنے اور اسے گالیاں دینے والے تھے۔کہیں دو اور کہیں تین مسلمان ہوتے تھے۔اب ان علاقوں میں ایک رو پیدا ہو رہی ہے اور یورپ کے ممالک یعنی ان مغربی ممالک میں جو تہذیب یافتہ ممالک کہلاتے ہیں ایک سو بائیس بیعتیں ہوئی ہیں۔اگر ہم اس کا ماضی سے مقابلہ کریں تو یہ بہت بڑی تعداد ہے۔مجھے یاد ہے کہ ۱۹۳۹ء میں جب میں کشمیر میں تھا ایک انگریز دوست یورپ میں مسلمان ہوئے تھے اور اس ایک انگریز کے مسلمان ہونے پر کشمیر میں ایک بڑی عید کا دن لوگوں نے منایا تھا اور اس نقطہ نگاہ سے پتہ نہیں کتنے سال بعد وہ عید آئی تھی اس لئے ایک سال میں ایک سو بائیس سے زیادہ بیعتوں کا ہونا ہمارے لئے عید ہے اور ان علاقوں میں اسلام کے قدم جم رہے ہیں اور مضبوط ہو رہے ہیں۔اسلام پر جو مخالف طاقتیں حملہ آور ہیں خدا تعالیٰ نے ہمیں ان کا مقابلہ کرنے کے لئے کھڑا اور قائم کیا ہے اور ہم ان کا مقابلہ کر رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل اور برکتوں کی بارش اپنے پر نازل ہوتی دیکھ رہے ہیں۔ہم اپنی راہ میں جب کا نٹوں کو بچھا ہوا دیکھتے ہیں اور ہمارے پاؤں سے ذرا سا خون نکالتا ہے تو ہماری اس کی طرف توجہ بھی نہیں ہوتی۔ہمارے کانوں میں جب اس زبان سے جو اس وقت تک محمد رسول اللہ صلی علیہ وسلم کو گالیاں دے رہی تھی نکلا ہوا لا اله الا الله محمد رسول اللہ کا کلمہ پڑتا ہے۔تو ہمیں دوسرے کلموں کی کیا پرواہ ہے جب ایک لایعنی آواز کہ مرزائی کا فر ہیں ہمارے کانوں میں پڑتی ہے تو ہم اس کی طرف متوجہ نہیں ہوتے کیونکہ لا اله الا الله محمد رسول الله کی حسین اور دل کش آواز ہماری توجہ کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہے اور کوئی ایسی آواز نہیں ہے جو ہمیں پریشان کرے ہم تو س آواز کو سنتے ہی نہیں۔ہم تو اس کی طرف متوجہ ہی نہیں ہوتے غرض ہمیں اس آزمائش کے زمانہ میں شاید دنیا کی