خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 272 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 272

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۲۷۲ ۲۷ دسمبر ۱۹۶۸ء۔دوسرے روز کا خطار دار نہیں کرسکتا۔صاحب تجر بہ اسے جانتے ہیں۔الفاظ اسے بیان نہیں کر سکتے۔بعض دفعہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ خوشی اور مسرت اور سرور نے سارے جسم کو۔جسم کے ذرہ ذرہ کو اور روح کے ہر زاویہ کو اپنی گرفت میں لے لیا اور گھنٹوں وہ حالت رہتی ہے۔اللہ تعالیٰ کے حسن کا کوئی جلوہ ایسا آ جاتا ہے تجربہ رکھنے والے اس کا تجربہ رکھتے ہیں۔یہ ہے عید اور یہ ہے عید کی خوشی دنیا کی خوشیاں تو عارضی ہوتی ہیں۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ وعدہ دیا گیا تو آپ کے زمانہ میں بھی مسلمان پر بڑی سختی کے دن آئے لیکن ان سختی کے ایام میں بھی اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے عید کے سامان پیدا کئے تھے۔میں نے دو مختلف جنگوں کی مثالیں دی ہیں اور ایک جنگ کی آگے دو مثالیں دی ہیں۔لیکن اسلام کی ساری تاریخ ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے کیونکہ عید اُسی طرح ہم سے قربانی کا مطالبہ کرتی ہے جس طرح دنیا کی عید گھر کی مالکہ اور اس کے خادموں سے اس قربانی کا مطالبہ کرتی ہے کہ گھر کی صفائی کی جائے اور پہلے سے زیادہ وقت لگا کر پہلے سے زیادہ محنت کر کے پہلے سے زیادہ پیسے خرچ کر کے کھانے کے سامان پیدا کئے جائیں۔جب ہم خدا کے لئے ان سختیوں کو برداشت کر لیتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ یہ سختیاں کوئی سختیاں نہیں وہ سختیاں غائب ہو جاتی ہیں اور دب جاتی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کے ساتھ جو عید کا دن اسلام پر چڑھا اور جو قیامت تک جائے گا غروب نہیں ہو گا یہ دن ہم سے کئی قربانیاں چاہتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی محبت اور پیار کا سلوک ہمیں دیتا ہے جو عید کی خوشیاں ہمارے لئے مہیا کرتا ہے۔ہماری جماعت پر مختلف مقامات پر مختلف ملکوں میں اور مختلف زمانوں میں قربانیوں کے ایام آتے ہیں اور یہ ایام خوشیوں کے ساتھ بالکل لگے ہوئے ہوتے ہیں اور جس طرح سینڈوچ بنتی ہے اور روٹی کے دو ٹکڑے اس چیز کو چھپا لیتے ہیں جو ان کے درمیان ہوتی ہے اسی طرح ہماری خوشیاں ان تکلیفوں اور ایذاؤں کو جو ہمیں دی جاتی ہیں سینڈوچ (sandwich) کرلیتی ہیں۔وہ نظر ہی نہیں آتیں کیونکہ اس طرف بھی خوشی ہوتی ہے اور اس طرف بھی خوشی ہوتی ہے۔اب دیکھ لو یہ دن بھی ہم نے پریشانی میں گزارے ہیں۔فضا ہمارے خلاف رہی اور سال بھر