خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 274
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۲۷۴ ۲۷ دسمبر ۱۹۶۸ء۔دوسرے روز کا خطار نگاہ میں بڑی تکلیفیں دی گئی ہوں گی لیکن ہماری نگاہ میں تو ہمیں کوئی تکلیف نہیں پہنچی ہمیں تو خوشیاں ہی خوشیاں پہنچ رہی ہیں جن کی ایک مثال میں نے بیان کی ہے۔اس کی ایک اور مثال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے خوشی کا سامان یہ بھی پیدا کیا ہے کہ ہمارے عرب بھائیوں کے علاقوں میں جنہیں مشرق وسطی بھی کہتے ہیں اور عرب ممالک بھی کہتے ؟ ہیں۔اس سال اتنی بیعتیں ہوئی ہیں کہ انسان حیران رہ جاتا ہے۔وہاں جماعت کے لئے کافی پریشانیاں بھی ہیں۔کافی تنگی بھی ہے وہاں کے حالات بھی پوری طرح ہمیں نہیں ملتے لیکن جن حالات کا ہمیں پتہ لگا ہے ان کے رُو سے اس سال وہاں چالیس عرب احمدی ہوئے ہیں۔ان میں سے ایک وہ بھی ہے جس کا میں پہلے ذکر کر چکا ہوں۔چند مہینے ہوئے وہ ہمارے ایک احمدی عرب دوست کو ملے اس نے انہیں بتایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مبعوث ہو چکے ہیں کو اور ایک مہم غلبہ اسلام کے لئے جاری ہو چکی ہے اور اس طرح دنیا میں اسلام کی تبلیغ اور اسلام کی تعلیم کی اشاعت کے سامان ہو رہے ہیں اور مساجد اور سکول بن رہے ہیں۔یہ باتیں بتانے کے بعد شاید اس نے انہیں کوئی کتاب بھی پڑھنے کے لئے دی اور شاید اس دن یا اس سے اگلے دن وہ کہنے لگے کہ میری بیعت لے لو۔وہ احمدی دوست سمجھے کہ اس نے جماعت احمدیہ کے متعلق اتنا تھوڑ اعلم حاصل کیا ہے کہ اس کی بیعت لینا ٹھیک نہیں ہو گا۔غرض وہ کچھ شش و پنج میں پڑے اس پر وہ کہنے لگے اصل بات یہ ہے کہ (میں پچھلے سال کی بات کر رہا ہوں اور جو بات انہوں نے بتائی وہ پرانے زمانہ کی ہے ) ۱۹۴۸ء میں میرے والد کی وفات ہوئی اور مرتے وقت میرے والد نے اپنے بچوں کو یہ وصیت کی کہ امام مہدی دنیا میں ظاہر ہو چکے ہیں اور میں ایک بدقسمت انسان ہوں کہ میری ان سے ملاقات نہیں ہوئی اور میں ان کی جماعت میں داخل نہیں ہوا۔میری تمہیں یہ نصیحت ہے کہ جب بھی تم ان کے متعلق سنوان کی جماعت میں داخل ہو جاؤ۔سو میں تو اپنے والد کی وصیت کے مطابق جماعت میں داخل ہونا چاہتا ہوں اور اللہ تعالیٰ نے اسی وقت اس دل میں اس قد را خلاص اور جوش پیدا کیا کہ وہ وہاں مسافرت کی حالت میں تھا۔جس جگہ اس کی ملاقات اس احمدی عرب دوست سے ہوئی اور اس کے دو اور ساتھی بھی تھے وہ وہاں سے اٹھا اور اپنے دونوں ساتھیوں کے پاس گیا اور ان کو تبلیغ کی چنانچہ وہ جو خود چند منٹ پہلے بیعت کر کے جماعت