خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 176 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 176

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۱۷۶ ۲۸ / جنوری ۱۹۶۷ء۔اختتامی خطاب پیش آویں۔ہر ایک قسم کی شرارت اور خباثت کو چھوڑ دیں۔پس اگر ان سات سال میں میری طرف سے خدا تعالیٰ کی تائید سے اسلام کی خدمت میں نمایاں اثر ظاہر نہ ہوں اور جیسا کہ مسیح کے ہاتھ سے ادیان باطلہ کا مرجانا ضروری ہے۔یہ موت جھوٹے دینوں پر میرے ذریعہ سے ظہور میں نہ آوے۔یعنی خدا تعالیٰ میرے ہاتھ سے وہ نشان ظاہر نہ کرے۔جن سے اسلام کا بول بالا ہو اور جس سے ہر ایک طرف سے اسلام میں داخل ہونا شروع ہو جائے اور عیسائیت کا باطل معبود فنا ہو جائے اور دنیا اور رنگ نہ پکڑ جائے تو میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں اپنے تئیں کا ذب خیال کرلوں گا اور خدا جانتا ہے کہ میں ہرگز کا ذب نہیں۔یہ سات برس کچھ زیادہ سال نہیں ہیں اور اس قدرا انقلاب اس تھوڑی مدت میں ہو جانا انسان کے اختیار میں ہر گز نہیں۔پس جب کہ میں سچے دل سے اور خدا تعالیٰ کی قسم کے ساتھ یہ اقرار کرتا ہوں اور تم سب کو اللہ کے نام پر صلح کی طرف بلاتا ہوں تو اب تم خدا سے ڈرو۔اگر میں خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہوں تو میں تباہ ہو جاؤں گا۔ورنہ خدا کے مامور کو کوئی تباہ نہیں کرسکتا۔انجام آتھم۔روحانی خزائن صفحہ جلد نمبر۳۱۱،۱۱ تا ۳۱۹) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اسلام کے تمام فرقوں سے کہا تھا کہ وہ ہمارے ساتھ نہ الجھیں اور جو طاقت اور قوت یا پیسہ وہ ہمارے خلاف اور ہمیں بُرا بھلا کہنے میں خرچ کر رہے ہیں۔وہ دوسرے نیکی کے کاموں پر خرچ کریں اور اس کی بجائے ہمیں پیار سے ملیں اور شرافت کے ساتھ زندگی کے دن گزار ہیں۔یہ دعوتِ فیصلہ اسلام کے کسی ایک فرقہ کو نہیں بلکہ تمام فرقہ ہائے اسلام کو جو تمام دنیا کے ممالک میں ہیں۔یہ فیصلہ کرنا پڑے گا۔اس لئے کہ اس وقت ہماری جماعت بین الاقوامی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔اس کے بغیر اس کا وہ نتیجہ نہیں نکل سکتا۔جو دوسری صورت میں ہم خدا تعالیٰ کے فضل سے امید رکھتے ہیں کہ نکلے گا۔میں مامور تو نہیں۔میں تو خدا تعالیٰ کے ایک مامور کا خلیفہ ہوں۔اس لئے میں اس دعوت فیصلہ میں کچھ تبدیلی کر کے ہی دنیا کو مخاطب کر سکتا ہوں۔میں تمام دنیائے اسلام کو یہ کہتا ہوں کہ اے ہمارے پیارے بھائیو! جو ہمارے پیارے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ہونے والے ہو! آؤ سات سال