خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 177 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 177

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) 122 ۲۸ جنوری ۱۹۶۷ء۔اختتامی خطاب کے لئے ہم سے صلح کر لو۔ان سات سالوں میں تم ہمارے خلاف کوئی تدبیر نہ کرو۔ہمیں گالیاں نہ دو۔ہمیں بُرا بھلا نہ کہو۔ہمیں تم اپنی کوششوں میں الجھاؤ نہیں تاہم یکسوئی کے ساتھ اپنی تمام طاقت کو ان قوتوں کے خلاف خرچ کر سکیں جو آج اسلام کے مقابلہ میں برسر پیکار ہیں۔اگر آپ سات سال تک کے لئے ہم سے صلح کر لیں گے۔تو آپ یہ نظارہ دیکھیں گے کہ جو شوکت اسلام کو آج حاصل ہے۔اس سے کہیں زیادہ شوکت اسلام کو اس سات سالہ زمانہ میں حاصل ہو چکی ہوگی اور میں یہ تو نہیں کہتا ( کیونکہ ایسا کہنے کا مجھے خدا تعالیٰ کی طرف سے حکم نہیں ہے ) کہ اس سات سالہ عرصہ میں تمام ادیان باطلہ کلیۂ دنیا سے مٹ جائیں گے لیکن میں آپ کو خدا تعالیٰ کے فضل پر امید رکھتے ہوئے یہ ضرور کہتا ہوں کہ اس سات سالہ عرصہ میں جو صلح کا عرصہ ہوگا۔ایسے حالات ظاہر ہو جائیں گے کہ آپ خود آپ کی آنکھیں یہ دیکھنے لگیں گے کہ دنیا میں ایک ایسا انقلاب عظیم ، ہو چکا ہو گا جو ہمیں اس فیصلہ پر اس سچائی پر اور اس صداقت پر پہنچا تا ہے کہ اسلام کی ہی آخری فتح ہوگی اور دوسرے ادیان ہی اسلام کے مقابلہ میں مٹنے والے اور ہلاک ہونے والے اور تباہ ہونے والے ہیں۔اب دعا سے قبل میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ آپ اپنے کاموں کا حرج کر کے دین کی باتیں سننے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰہ والسلام کی محبت جو ہر احمدی کے دل میں ہے۔اس کو اور تیز کرنے کے لئے۔اپنی ذمہ داریوں کو اور زیادہ سمجھنے کے لئے۔اپنے ارادوں میں اور زیادہ پختگی اور عزم پیدا کرنے کے لئے یہاں اکٹھے ہوئے ہیں۔اور یہاں اس لئے اکٹھے ہوئے تھے کہ تاہم سب مل کر تد بیر اور دعا کے ساتھ اسلام کے غلبہ کے سامان پیدا کرنے کی کوشش کریں اور اپنے رب سے یہ امید رکھیں کہ وہ ہماری کوششوں اور دعاؤں کو خواہ وہ کتنی ہی حقیر اور کتنی ہی پستہ کیوں نہ ہوں۔قبول کرتے ہوئے اور ہماری کمزوریوں پر مغفرت کی چادر ڈالتے ہوئے ہمیں وہ دے گا۔جو وہ ہمیں اسلام کے غلبہ کے لئے وہ دینا چاہتا ہے اور جس تک ہماری نظر نہیں پہنچی یا جس تک ہمارا تخیل نہیں پہنچا یا جس تک ہماری زبان نہیں پہنچی یا جس تک ہمار اخیال نہیں پہنچا۔اب آپ خدا تعالیٰ کے فضلوں کو سمیٹنے کے بعد اور اس کی رحمت کے سایہ میں اپنے گھروں کو جلسہ کے بعد ہمارے دلوں کو اداس کر کے واپس لوٹیں گے ہم ربوہ والے باوجود اس کے کہ ہم اپنے کاموں میں