خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 175
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۱۷۵ ۲۸ / جنوری ۱۹۶۷ء۔اختتامی خطاب حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے زمانہ میں کسی عالم حدیث کا یہ قول پیش کیا ہو یا کسی کتاب کا یہ حوالہ پیش کیا ہو کہ اس کے نزدیک یہ حدیث وضعی ہے اور نا قابل قبول ہے تو اس شخص کے لئے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے سور و پیدا انعام کے طور پر دینا منظور کیا تھا اور اس کا اعلان کیا تھا۔میں ایسے شخص کو جواب یہ ثابت کر دے کہ اس زمانہ میں کسی شخص نے یہ حوالہ نکال کر پیش کیا تھا۔ایک ہزار روپیہ انعام دوں گا۔۴۔جیسا کہ میں نے کہا ہے۔میں نے بہت سی فیصلہ کی دعوتیں جمع کی تھیں اور ان میں سے میں نے بعض دعوتوں کا انتخاب کیا تھا لیکن ان میں سے بھی مجھے یہاں آکر بہت سی دعوتوں کو چھوڑنا پڑا ہے۔اگر اللہ تعالیٰ نے توفیق دی تو انشاء اللہ آئندہ کسی وقت انہیں مضمون کی شکل میں یا اپنے خطبات میں بیان کر دوں گا۔آخری بات جو میں اس وقت پیش کرنا چاہتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک موقعہ پر علماء کے سامنے جو آپ کے مقابلہ میں آئے تھے۔بہت سے فیصلہ کے طریق رکھے۔ان میں ایک طریق جو آپ نے ان لوگوں کے سامنے رکھا۔اُسے میں آج پھر امت مسلمہ کے سب فرقوں کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔جو یہ سمجھتے ہیں کہ جماعت احمد یہ نعوذ باللہ اسلام کو نقصان پہنچا رہی ہے اور اس کی وجہ سے اسلام کو وہ قوت اور شوکت حاصل نہیں ہو رہی۔جو ان کے نزدیک اگر یہ جماعت دنیا میں موجود نہ ہوتی تو ان کی تدبیروں اور ان کے منصوبوں کے نتیجہ میں اسلام کو قوت و شوکت حاصل ہو سکتی تھی یا ہو جاتی۔ان لوگوں کو مخاطب کر کے میں نہایت احترام کے ساتھ اور نہایت ادب کے ساتھ یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے مقابلہ میں آنے والوں کے سامنے چھ طریق فیصلہ پیش کئے تھے۔ان میں سے پانچ کو تو میں اس وقت چھوڑتا ہوں۔چھٹا طریق جو آپ نے ان کے سامنے رکھا تھا۔وہ میں اس وقت امت مسلمہ کے تمام فرقوں کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں جو یہ سمجھتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ اگر ان باتوں میں سے کوئی بھی نہ کریں تو مجھ سے اور میری جماعت سے سات سال تک اس طور سے صلح کر لیں کہ تکفیر اور تکذیب اور بدزبانی سے منہ بند رکھیں اور ہر ایک کو محبت اور اخلاق سے ملیں اور قہر الہی سے ڈر کر ملاقاتوں میں مسلمانوں کی عادت کے طور پر