خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 70
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۲۱؍دسمبر ۱۹۶۵ء۔اختتامی خطاب کو روک سکے۔اصل بات یہ ہے کہ جو کچھ خو بی علمی یا عملی یا اخلاقی انسان سے صادر ہوسکتی ہے وہ صرف انسانی طاقتوں سے صادر نہیں ہو سکتی بلکہ اصل موجب اس کے صدور کا فضل الہی ہے پس چونکہ یہ لوگ سب سے زیادہ مور د فضل الہی ہوتے ہیں اس لئے خود خداوند کریم اپنے تفضلات لامتناہی سے تمام خوبیوں سے ان کو متمتع کرتا ہے یا دوسرے لفظوں میں یوں سمجھو کہ حقیقی طور پر بجز خدائے تعالیٰ کے اور کوئی نیک نہیں تمام اخلاق فاضلہ اور تمام نیکیاں اسی کے لئے مسلّم ہیں۔پھر جس قدر کوئی اپنے نفس اور ارادت سے فانی ہو کر اس ذات خیر محض کا قرب حاصل کرتا ہے اسی قدر اخلاق الہیہ اس کے نفس پر منعکس ہوتی ہیں۔پس بندہ کو جو جو خوبیاں اور کچی تہذیب حاصل ہوتی ہے وہ خدا ہی کے قرب سے حاصل ہوتی ہے اور ایسا ہی چاہئے تھا کیونکہ مخلوق فی ذاتہ کچھ چیز نہیں ہے سوا خلاق فاضلہ الہیہ کا انعکاس انہیں کے دلوں پر ہوتا ہے کہ جو لوگ قرآن شریف کا کامل اتباع اختیار کرتے ہیں اور تجربہ صحیح بتلا سکتا ہے کہ جس مشرب صافی اور روحانی ذوق اور محبت کے بھرے ہوئے جوش سے اخلاق فاضلہ ان سے صادر ہوتے ہیں اس کی نظیر دنیا میں نہیں پائی جاتی اگر چہ منہ سے ہر یک شخص دعویٰ کر سکتا ہے اور لاف و گزاف کے طور پر ہریک کی زبان چل سکتی ہے مگر جو تجر بہ صحیحہ کا تنگ دروازہ ہے۔اس دروازہ سے سلامت نکلنے والے یہی لوگ ہیں اور دوسرے لوگ اگر کچھ اخلاق فاضلہ ظاہر کرتے بھی ہیں تو تکلف اور تصنع سے ظاہر کرتے ہیں اور اپنی آلود گیوں کو پوشیدہ رکھ کر اور اپنی بیماریوں کو چھپا کر اپنی جھوٹی تہذیب دکھلاتے ہیں اور ادنی ادنی امتحانوں میں ان کی قلعی کھل جاتی ہے اور تکلف اور تصنع اخلاق فاضلہ کے ادا کرنے میں اکثر وہ اس لئے کرتے ہیں کہ اپنی دنیا اور معاشرت کا حسنِ انتظام وہ اسی میں دیکھتے ہیں اور اگر اپنی اندرونی آلائشوں کی ہر جگہ پیروی کریں۔تو پھر مہمات معاشرت میں خلل پڑتا ہے اور اگر چہ بقدر استعداد فطرتی کے کچھ تم اخلاق کا ان میں بھی ہوتا ہے مگر وہ اکثر نفسانی خواہشوں کے کانٹوں کے نیچے دبارہتا ہے اور بغیر آمیزش اغراض نفسانی کے خالص اللہ ظاہر نہیں ہوتا۔چہ جائیکہ اپنے کمال کو پہنچے اور خالص اللہ انہیں میں وہ تخم کمال کو پہنچتا ہے کہ جو خدا کے ہو رہتے ہیں اور جن کے نفوس کو خدائے تعالیٰ غیریت کی لوث سے بکلی خالی پا کر خود