خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 69
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۶۹ ۲۱ ؍دسمبر ۱۹۶۵ء۔اختتامی خطاب معلوم ہوتا تھا کہ اگر سارا جہان بھی آپ کا عیال ہو جاتا تب بھی آپ کے دل میں کوئی انقباض پیدا نہ ہوتا۔خدا خود آپ کا کارساز اور متولی تھا۔جب کہ ۱۹۵۳ء میں ہم نے خود اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کیا اور ہم اس بات کے عینی گواہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جو یتولى الصالحین نیک اور برگزیدہ لوگوں کا متولی ہوتا ہے اولوالعزمی کی خارقِ عادت سیرت جو خاص اس وجود میں ظاہر ہوئی۔کسی دوسرے میں ہمیں نظر نہیں آتی جب آپ مسندِ خلافت پر رونق افروز ہوئے تو جماعت کے اکابر کا بڑا حصہ آپ کا ساتھ چھوڑ بیٹھا تھا اور خزانہ خالی تھا مگر اس اولوالعزم وجود نے اپنے قادر و توانا خدا پر کامل بھروسہ رکھا اور اس کا دل ایک لمحہ کے لئے بھی گھبرایا نہیں اور نہ وہ مایوس ہوا اور دنیا نے إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ کا ایک ظلی معجزہ دیکھا اور جب وہ اپنے مولی کو پیارا ہوا تو دنیا کے طول و عرض میں لاکھوں دل اس کی یاد میں تڑپے اور لاکھوں روحیں اس کی بلندی درجات کے لئے دعائیں کرتی ہو ئیں اپنے رب کے حضور جھکیں اور اپنے پیچھے آنے والوں کے لئے بھرا ہوا خزانہ اور ایک ایثار پیشہ قوم چھوڑ گیا۔ربوہ کی سرزمین کا ذرہ ذرہ جسے اس نے اپنے آنسوؤں اور خون سے سینچا اس کی اولوالعزمی پر گواہ ہے اور ہم سب شاہد ہیں کہ وہ اپنے کاموں میں اولوالعزم تھا پیشگوئی میں خدا تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ وہ دل کا حلیم تھا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے۔الْحَلِيم سَيِّدٌ فِي الدُّنْيَا وَسَيِّدٌ فِي الْآخِرَةَ یعنی حلیم وہ شخص ہوتا ہے جو تمام صفات حسنہ سے متصف ہونے کی وجہ سے دنیا میں بھی سردار ہوتا ہے اور آخرت میں بھی اسے سردار بنایا جائے گا۔گویا خدا تعالیٰ نے وہ دل کا حلیم ہوگا کہ کر بتایا وہ تمام صفات حسنہ سے متصف ہو گا اور تخَلَّقُوا بِاَخلاقِ الله (التعريفات جلد ۱ صفحه ۲۱۶) کا مظہر کامل ہوگا اور ہم میں سے ہزاروں اس بات پر گواہ ہیں کہ ہمارا آقا اور ہمارا محبوب مصلح موعود اس زمرہ ابرار میں شامل تھا جس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے۔سخاوت ، شجاعت، ایثار، علو همت، وفور شفقت، حلم حیا، مودت یہ تمام اخلاق بھی بوجہ احسن اور انسب انہیں سے صادر ہوتے ہیں اور وہی لوگ به یمن متابعت قرآن شریف وفاداری سے اخیر عمر تک ہر یک حالت میں ان کو بخوبی وشائستگی انجام دیتے ہیں اور کوئی انقباض خاطر ان کو ایسا پیش نہیں آتا کہ جو اخلاق حسنہ کی کما ینبغی صادر ہونے سے ان