خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 71
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) اے ۲۱؍دسمبر ۱۹۶۵ء۔اختتامی خطاب اپنے پاک اخلاق سے بھر دیتا ہے اور ان کے دلوں میں وہ اخلاق ایسے پیارے کر دیتا ہے جیسے وہ اس کو آپ پیارے ہیں۔پس وہ لوگ فانی ہونے کی وجہ سے تخلق باخلاق اللہ کا ایسا مرتبہ حاصل کر لیتے ہیں کہ گویا وہ خدا کا ایک آلہ ہو جاتے ہیں جس کی توسط سے وہ اپنے اخلاق ظاہر کرتا ہے اور ان کو بھوکے اور پیاسے پا کر وہ آب زلال ان کو اپنے اس خاص چشمہ سے پلاتا ہے جس میں کسی مخلوق کو علی وجہ الا صالت اس کے ساتھ شرکت نہیں“ (براہین احمدیہ حصہ چہارم۔روحانی خزائن جلد اصفحه ۵۴۰ تا ۴۲ ۵ حاشیه در حاشیه ) غرض ہم نے پایا کہ ہمارا دل کا حلیم محبوب اس زمرہ ابرار میں شامل تھا۔پھر خدا تعالیٰ نے پیشگوئی میں فرمایا تھا کہ وہ تین کو چار کرنے والا ہو گا خدا تعالیٰ کی پیشگوئیاں بہت سے واقعات کو چند لفظوں میں بیان کر دیتی ہیں اور وہ واقعات بھی ایسے ہوتے ہیں۔جن میں زمانی فاصلہ سالوں کا ہوتا ہے اور زمینی فاصلہ ہزار ہا میل کا ہوتا ہے لیکن ایک اچھا شکاری ایک فائر کے ساتھ ایک سے زائد پرندے گرا لیتا ہے حالانکہ اس کے پاس محدود اسباب اور محدود طاقت ہوتی ہے۔پھر خدا تعالیٰ جس کی طاقتیں غیر محدود ہیں اور جو ہر چیز کا مالک اور مختار ہے۔اس کے لئے تو آسان ہے کہ وہ چھوٹی سی بات بیان کرے اور اس میں دو چار یا دس باتیں پرو کر رکھ دے اور پھر وہ ساری کی ساری بچی ہوں اور نہ صرف خود علیحدہ طور پر پوری ہوں بلکہ پیشگوئی کو پورا کرنے والی ہوں۔غرض حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ وہ تین کو چار کرنے والا ہوگا اس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ میں نہیں کہہ سکتا کہ اس کے کیا معنی ہیں اب تک یہ الہام الہی کئی شکلوں میں پورا ہو چکا ہے اور ان کا ذکر ہمارے لٹریچر میں موجود ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ اس فقرہ کے ایک معنی یہ بھی ہیں کہ جن چار لڑکوں کی اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو خبر دی تھی ان میں سے چوتھا لڑکا حضرت مصلح موعودؓ کے صلب سے پیدا ہوگا اور وہ بمنزلہ مبارک احمد ہو گا۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔خدا کی قدرتوں پر قربان جاؤں کہ جب مبارک احمد فوت ہوا۔ساتھ ہی خدا تعالیٰ نے یہ الہام کیا۔انا نبشرک بغلام حلیم ینزل منزل المبارک۔یعنی ایک