خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 570
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۵۷۰ ۱۲۷ دسمبر ۱۹۷۲ء۔دوسرے روز کا خطار داخل کر لو۔اب تو یہاں بھی عوامی حکومت ہے۔دیکھیں گے ان کے وزیر کیا کرتے ہیں۔ان سے پہلے کی حکومتوں کے جو وزیر تھے عوامی نہیں تھے مگر وہاں کے وزیر عملا عوامی ہیں۔ان کے درمیان امیر اور غریب یا وزیر اور عوام کا خاص فرق نہیں ہے۔آپ دیکھیں کہ اپنے دفتر سے اٹھ کر ایک ایک دن میں چار چاروزیر ایک ہیڈ ماسٹر سے سفارش کرنے پہنچ جاتے ہیں کہ یہ ہمارا بچہ ہے اس کو سکول میں داخل کر لیں۔سیرالیون میں حکومت نے یہ قانون بنایا کہ کسی ہائر سیکنڈری سکول میں چار سو سے زیادہ لڑکے داخل نہیں ہوں گے۔چنانچہ اس پر لوگوں نے ایک ہنگامہ بپا کر دیا اور کہا کہ احمدیہ میں تو یہ قانون نہیں چلے گا۔(وہاں ہمارے سکول عام زبان میں احمدیہ “ کہلاتے ہیں چنانچہ عوام نے حکومت پر اتنا دباؤ ڈالا کہ حکومت کو یہ اعلان کرنا پڑا کہ ہمارا قانون احمدیہ پر لاگو نہیں ہو گا۔چنانچہ ہم نے اپنے حالات کے لحاظ سے مثلاً چھ سولر کے داخل کرنے تھے لیکن دوسال کی بات ہے وہاں کی حکومت پیچھے پڑ گئی کہ چھ سولر کا تو کم ہے۔یعنی خود قانون بنایا کہ کسی سکول میں چارسو سے زیادہ لڑکا نہیں ہو گا لیکن پھر کہا کہ احمد یہ سکولز اس قانون سے مستثنیٰ ہیں۔پھر کہا کہ تم نے جو چھ سو کی شرط لگائی ہے۔ٹھیک نہیں۔ہم پیسے دیتے ہیں تم سکول کے نئے ونگ (wing) بناؤ۔نئی لیبارٹریز بناؤ۔نئے سامان لاؤ۔نیا سٹاف رکھو۔ان کا سارا خرچ ہم برداشت کریں گے۔مگر تم تعداد چھ سو کی بجائے آٹھ سو تک لے جاؤ۔کیونکہ عوام ہمیں تنگ کرتے ہیں۔اب یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے جو ہمیں مختلف شکلوں میں نظر آ رہا ہے۔پس اللہ تعالیٰ کا جو فضل ہے دنیا جہان کے خزانے تو اس کی قیمت نہیں بن سکتے۔وہ تو اس سے بھی زیادہ قیمتی ہے اور اس کا فضل اس کے فضل کے بغیر حاصل نہیں کیا جاسکتا۔اس کے فضل کے حصول کے لئے عاجزانہ راہوں کو اختیار کرنا پڑتا ہے۔اس کے فضل کے حصول کے لئے اپنی روح کو پانی کی طرح اس کے آستانے پر بہانا پڑتا ہے۔اس کے فضل کو جذب کرنے کے لئے دنیا کی ہر مخلوق کو اپنے وجو دسمیت لاشے محض سمجھنا پڑتا ہے۔اس کے فضل کو جذب کرنے کے لئے سر کبھی اونچے نہیں ہوا کرتے بلکہ جھکتے جھکتے زمین کے ساتھ لگ جاتے ہیں تب آسمان سے اللہ تعالیٰ کا فضل نازل ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں برکت ڈال دیتا ہے۔پھر اس کسمپرسی کی حالت میں نئے کلینک جن میں ابھی پوری طرح طبی سامان بھی مہیا نہیں تھا