خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 569
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۵۶۹ ۲۷/ دسمبر ۱۹۷۲ء۔دوسرے روز کا خطاب چار غانا میں قائم ہو چکے ہیں۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے ہم خدمت کے لئے وہاں گئے ہیں۔ہم نے ان طبی مراکز کے ذریعہ ۴۰۰ ۳۰ سے زائد ایسے مریض ہیں جنہوں نے فیس ادا نہ کی نہ دوائی کی قیمت دی ان کا مفت علاج کیا۔یعنی جو غریب لوگ ہیں ہم ان کا مفت علاج کرتے ہیں۔کیونکہ ہم ان کی خدمت کے لئے گئے ہوئے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے ہمارے طبی مراکز کو اتنی مقبولیت بخشی ہے کہ وہاں کے لحاظ سے جو بڑے بڑے امیر اور لکھ پتی لوگ ہیں وہ بھی علاج کے لئے ہمارے ہسپتالوں میں آتے ہیں۔حتی کہ ایک وزیر صاحب ہمارے کلینک میں آنے لگ گئے۔کسی نے ان سے کہا۔تم وزیر ہو گورنمنٹ کا نہایت اعلیٰ ہسپتال موجود ہے۔تم وہاں جاؤ گے لوگ تمہاری خوشامد بھی کریں گے تمہارے آگے پیچھے پھریں گے۔سارے ڈاکٹر تمہارا اور تمہارے رشتہ داروں کا علاج کریں گے۔تم سرکاری ہسپتال کو چھوڑ کر احمدیوں کے کلینک میں علاج کروانے کیوں چلے جاتے ہو۔انہوں نے کہا کہ میں صرف اس لئے جاتا ہوں کہ وہاں جا کر میرے دل کو زیادہ تسلی ہوتی ہے اور ہونی چاہئے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے احمدی ڈاکٹروں کے ہاتھ میں غیر معمولی شفاء رکھی ہے۔اس واسطے ۳۰۴۰۰ کا تو مفت علاج کیا لیکن خدا تعالیٰ نے ایسے حالات پیدا کر دیئے کہ امیر لوگ مجبور ہو گئے کہ وہ ہمارے ہسپتالوں میں آ کر اپنا علاج کروائیں کیوں کہ انہوں نے دیکھا کہ احمدی ڈاکٹروں کے ہاتھ میں شفاء ہے تو وہ اپنے علاج کے لئے ہمارے ہسپتالوں میں آنے لگ گئے۔پس جہاں میں ساڑھے تیں ہزار لوگوں کا مفت علاج کیا گیا وہاں تین لاکھ چار ہزار امیر لوگ اپنا علاج کروانے کے لئے آئے اور انہوں نے فیسیں ادا کیں۔جس سے بہت زیادہ آمد ہوئی یہی اللہ تعالیٰ کی برکت ہے جسے نفع سمجھنا چاہیے۔پس اللہ تعالیٰ کی بڑی شان ہے کہ وہ تھوڑی سی قربانی کا بہت بڑا اجر عطا فرماتا ہے ہمارے نئے سکول ابھی ابتدائی شکل میں ہیں یعنی پہلی دوسری جماعتیں جاری ہوئی ہیں۔آہستہ آہستہ ترقی کریں گے۔تحریک جدید کے جو پہلے سکول ہیں ان میں سے سیرالیون کے ایک ہیڈ ماسٹر نے مجھے بتایا کہ جب سکول میں داخلے شروع ہوتے ہیں تو ایک ایک دن میں حکومت کے چار چار وزیر بیچوں کی سفارش لے کر میرے پاس آ جاتے ہیں کہ ہمارے بچوں کو اپنے سکول میں