خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 571 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 571

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۵۷۱ ۱۲۷ دسمبر ۱۹۷۲ء۔دوسرے روز کا خطار خدا پر بھروسہ کرتے ہوئے ہمارے ڈاکٹروں نے ایسی جگہ ہاتھ ڈالا کہ وہاں کے بڑے بڑے ماہر غیر ملکی جرمن ، امریکن اور نجیئن ڈاکٹر ہاتھ نہیں ڈالتے تھے۔وہ یہ مشورہ دے رہے تھے کہ اس کا اپریشن یہاں نہیں ہو سکتا اس کو باہر بھیجو۔اب گورنمنٹ کے ہسپتال جن میں ہر قسم کا سامان موجود ہے مگر ہمارے ڈاکٹر نے کہا کہ میں اس مریض کا اپریشن کرتا ہوں اور اس نے اس لکڑی کی میز پر ( جس پر بعد میں اعتراض ہو گیا کہ تمہارے پاس لوہے کی میز ہونی چاہئے ) لٹا کر اس کا اپریشن کر دیا اور وہ چنگا بھلا ہو کر گھر چلا گیا۔ایک ڈاکٹر نے مجھے لکھا کہ اس کے پاس ایک ایسی مریضہ آئی کہ مجھے خود اس بات کا یقین تھا کہ وہ دو چار دن میں مر جائے گی۔پھر میرے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ میں جس کا نمائندہ ہوں یعنی خدائے قادر و توانا کا تو وہ تو اس کو اس حالت میں بھی شفاء دے سکتا ہے۔چنانچہ میں نے آپ کو دعاؤں کے لئے لکھا۔خود بھی دعائیں کیں اور یہ دعائیں کہ خدایا اسلام کو غالب کرنے کے لئے ہم تیری راہ میں خدمات بجالانے کی خاطر یہاں آئے ہیں تو اپنی قدرت کا اظہار فرما اور اس کو معجزانہ طور پر شفاء عطا فرما۔وہ کہتے ہیں کہ میں نے اس کا علاج کیا اور چند دن کے بعد مجھے وہی عورت جو مر رہی تھی راستے میں ملی۔میں حیران ہو گیا کہ یہ وہی عورت ہے۔میں نے پوچھا تو کہنے لگی ہاں۔میں اچھی ہوگئی ہوں۔اب چلتی پھرتی ہوں۔پس اپریشن تو سینکڑوں ہوتے ہیں لیکن سینکڑوں نہیں بیسیوں اپریشن ایسے ہوتے ہیں کہ دنیا کے ماہرین نے جس کو لا علاج قرار دیا تھا، حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب روحانی فرزند مہدی معہود کے خادموں نے اللہ تعالیٰ کی رحمت کا اس دنیا کو یہ معجزہ دکھایا کہ وہ لاعلاج تندرست ہو کر بازاروں میں چلنے پھرنے لگے۔وقت زیادہ ہو گیا ہے بعض تفاصیل چھوڑی جاسکتی ہیں۔اب اس تقریر کو ختم کرنے سے پہلے اور آپ کے دل میں اللہ تعالیٰ کی حمد کی موجیں اور بھی زیادہ بلند کرنے کی خاطر میں آپ کو یہ خوشخبری دیتا ہوں کہ نائیجیریا کی حکومت نے ہمیں اپنے ملک میں براڈ کاسٹنگ اسٹیشن کھولنے کی اجازت دے دی ہے۔الحمد للہ علی ذالک۔( از رجسٹر خطابات ناصر غیر مطبوعہ )