خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 360
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۳۶۰ ۲۷ دسمبر ۱۹۶۹ء۔دوسرے روز کا خطا۔ما حول کو گھر کا ماحول ہو یا کالج کا ماحول ہو یا وہ ماحول جس میں اس کی یہ قوت اور استعداد ترقی کر سکتی تھی۔اس کے ماحول کو یہ توفیق دی کہ اس فرد واحد کو جو قوت دی گئی تھی۔اس قوت کی کمال نشو ونما کر سکے یا قریباً کمال نشو و نما کر سکے۔اس کے بغیر وہ فسٹ آہی نہیں سکتا تھا۔ایک شخص کو اللہ تعالیٰ یہ طاقت دے کہ اگر وہ چاہے اور اس کو غذا صحیح ملے اس کا دماغ آوارہ نہ ہو۔اس کے خیالات پراگندہ نہ ہوں۔اس کی عادتیں بری نہ ہوں وہ وقت پر سونے والا اور پورا آرام لینے والا ہو۔اس کا گھر دنیوی لحاظ سے فراخی والا ہو کہ اس کے کھانے کی جو ضرورت ہو وہ پوری ہو رہی ہو جس سے اس کی نشو ونما بھی کماحقہ ہو رہی ہو۔اس ماحول میں اس نے پرورش پائی اور پھر وہ دوڑ میں گیا اور اول آ گیا۔پس صرف دوڑ میں اول آنے پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہیں کرنا بلکہ اس بات پر بھی اللہ کا شکر ادا کرنا ہے کہ اس نے طاقت دی اس طاقت کو سمجھنے کی توفیق دی اس طاقت کو نشو و نمادینے کی توفیق دی اس طاقت کے نشو و نما کے کمال تک پہنچانے کی توفیق دی۔یہ ساری توفیقیں اگر نہ ملتیں تو یہ شخص فسٹ نہ آتا پس محض نتیجہ پر شکر نہیں بلکہ نتیجہ کے سامانوں پر ہمیں شکر ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے اسی پرہ کا دیا گیا واسطے اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔كُلُوا مِنْ رِزْقِ رَبِّكُمُ وَاشْكُرُوالہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں جو بھی دیا ہے۔تمہیں اوقات دیئے ہیں تمہیں طاقتیں دی ہیں تمہیں اموال دیئے ہیں تمہیں بہترین سے بہترین کھانے دیئے ہیں تمہاری كُلُوا مِنْ رِزْقِ رَبِّكُمْ کا مختصراً مفہوم یہ ہے کہ تمہیں طاقتیں دی ہیں اور ان طاقتوں اور استعدادوں کو کمال نشو ونما تک پہنچانے کے لئے تمہارے لئے سامان پیدا کر دیئے گئے ہیں۔لوا مِنْ رِزْقِ رَبِّكُمْ اس لئے اپنی طاقتوں اور استعدادوں کی قدر کرو اور ان کی نشو و نما کے جو سامان پیدا کئے گئے ہیں ان سے فائدہ اٹھاؤ تاکہ تم ایک حسین شکل میں دنیا کے سامنے آؤ۔بَلْدَةً طَيْبَةً وَرَبِّ غَفُورٌ یہ بڑا پیارا فقرہ ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایک کمال موافقت رکھنے والا ماحول میں نے تمہارے لئے پیدا کر دیا ہے۔ربِّ غَفُورٌ اس ماحول میں پورے کا نشکس (conscious) ہوتے ہوئے اور علی وجہ البصیرت تم اپنی کوشش کرو۔لیکن تمہاری کوشش میں نقص رہ جاتے ہیں انسان میں بشری کمزوریاں ہیں۔جو نقص رہ جاتے ہیں ان سے تم گھبرانا نہیں۔یعنی جو انسان اپنے نفس کو پہچانتا ہے جہاں وہ یہ پہچانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر اپنے قرب ----