خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 361
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۳۶۱ ۲۷ دسمبر ۱۹۶۹ء۔دوسرے روز کا خطاب کی بڑی راہیں کھولی ہیں وہاں یہ بھی پہچانتا ہے کہ میرے نفس میں بڑی کمزوریاں ہیں۔میرے ساتھ آفات نفس لگی ہوئی ہیں۔میں اللہ تعالیٰ کے فضل کے بغیر ان سے بچ نہیں سکتا پس فرمایا : - بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وہ سارا ماحول پیدا کر دیا جو تمہاری قوتوں اور استعدادوں کی صحیح نشو و نما کرنے والا ہے اب تم کوشش کرو اور آگے بڑھو جب تم کوشش کرو گے اور آگے بڑھنے کے لئے تگ و دو کرو گے اس وقت یہ احساس اپنے دل میں پاؤ گے کہ تمہارے اندر بشری کمزوریاں ہیں۔ان سے نہ گھبرانا رَبِّ غَفُورٌ مغفرت کرنے والا تمہارا رب ہے یہاں رَبِّ غَفُورُ کہہ کر مغفرت اور ربوبیت کو اکٹھا کر دیا گیا ہے مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس طرح تمہاری مغفرت کر دے گا کہ تمہاری ربوبیت اور تمہاری تربیت اپنے کمال کو پہنچ جائے گی۔بَلدَةٌ طَيِّبَةٌ مثلاً یہ ہمارا ربوہ ہے یہ ہمارے لئے بَلْدَةٌ طَيِّبَةً ہے ان مکھیوں کے لئے بَلْدَةٌ طيبة نہیں ہے۔جن کو مارنے کے لئے ہم مہم کرتے ہیں کہ ملیریا نہ پھیلائیں۔ان چوہوں کے لئے یہ بَلدَةٌ طيبة نہیں ہے۔جن کو مارا جاتا ہے کہ وہ خرابی پیدا نہ کریں میں ایک خاص بات واضح کرنا چاہتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ کے یہ معنے صحیح نہیں کہ ایک شہر ہے جو بڑا اچھا ہے بلکہ بلدَةٌ طَيِّبَةٌ کے یہ معنے ہیں کہ ایک شہر ہے جو انسان کے لئے اس کی نشو ونما کے لئے اور اس کی نشو و نما کے کمال کو پہنچانے کے لیے اچھا ہے۔وہ بھیڑوں کے لئے اچھا نہیں وہ مکھیوں کے لئے اچھا نہیں وہ چوہوں کے لئے اچھا نہیں وہ چوروں کے لئے اچھا نہیں وہ جو غیر تربیت یافتہ نو جوان جلسہ کے دنوں میں سکوٹروں پر بیٹھ کر شاید اس امید پر آ جاتے ہیں کہ شاید ننگے منہ عورتوں پر ہماری نظر پڑ جائے گی ان کے لئے اچھا نہیں۔فوراً چیک کر لیا جاتا ہے اور ان کو آگے بھیج دیا جاتا ہے لیکن ہمارے لیے یہ بَلدَةٌ طيبة یعنی بڑا اچھا شہر ہے۔پاک ماحول ہے جس میں انسان جسمانی اور روحانی طور پر ترقی کر سکتا ہے۔یہ صحیح ہے کہ بعض چیزیں ہمیں نہیں ملیں ان میں نقص آ جاتے ہیں۔یہ صحیح ہے کہ انسان کمزور ہے ہماری تربیت میں نقص رہ جاتے ہیں۔خدا تعالیٰ نے فرما یارب غَفُورٌ ہمیں تو کوئی حجاب نہیں اس بات کے ماننے میں کہ ہمارے اندر لنقص رہ جاتے ہیں۔اگر ہم یہ کہیں کہ ہمارے اندر نقص کوئی نہیں رہتا تو پھر ہمیں یہ بھی اعلان کرنا پڑے گا کہ ہمیں رب غفور کی ضرورت نہیں۔ہمیں تو ہر آن ہر لحظہ رَبِّ غَفُورٌ کی ضرورت ہے۔تو اس کا شکر ادا کرنے کے لئے ہم وہ باتیں یہاں بیان کرتے ہیں جو بیان کرتے ہیں۔ورنہ